حیدرآباد: تلنگانہ کے وزیرِ اعلیٰ اے ریونت ریڈی نے بدھ کو نیٹ (NEET) سوالیہ پرچہ لیک معاملے اور وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے باہر دھرنے کے بعد راہل گاندھی کی حراست پر مرکزی این ڈی اے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کو برطرف کرنے کا مطالبہ کیا۔ وکار آباد ضلع کے کوڈنگل میں ایک احتجاجی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر دھرمیندر پردھان کو برطرف نہیں کیا جاتا تو وزیر اعظم نریندر مودی کو استعفیٰ دینا ہوگا۔
ریونت ریڈی نے کہا کہ کانگریس ’’سڑک سے لے کر پارلیمنٹ تک‘‘ این ڈی اے حکومت کے خلاف جدوجہد کرے گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کوڈنگل میں کانگریس کارکن اس عزم کا اظہار کر رہے ہیں کہ نریندر مودی کو اقتدار سے ہٹا کر راہل گاندھی کو وزیر اعظم بنایا جائے گا۔
انہوں نے بی جے پی کو ’’گوڈسے کے پیروکار‘‘ اور کانگریس کو ’’مہاتما گاندھی کے وارث‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اصل لڑائی کانگریس اور بی جے پی کے درمیان نہیں بلکہ گاندھی اور گوڈسے کے نظریات کے درمیان ہے۔ ریونت ریڈی نے کہا، ’’نریندر اور دھرمیندر مل کر اس ملک کو لوٹنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن ہم انہیں کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ راہل گاندھی، پرینکا گاندھی اور ملکارجن کھڑگے کی قیادت میں ہم سڑک سے پارلیمنٹ تک ان کے خلاف لڑیں گے اور شکست دیں گے۔‘
‘ انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم مودی ملک کے نوجوانوں کی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں اور نوجوان ان کے خلاف جدوجہد کے لیے تیار ہیں۔ ریونت ریڈی نے دعویٰ کیا کہ 20 جولائی کو کاکروچ جنتا پارٹی (کاجپا) کی جانب سے نکالے گئے پارلیمنٹ مارچ کے دوران سکیورٹی اہلکاروں نے طلبہ پر مبینہ طور پر سخت تشدد کیا، خواتین کے کپڑے پھاڑے گئے اور مرد مظاہرین کو بری طرح مارا گیا۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ متعدد طلبہ لاپتہ ہو گئے اور یہ معلوم نہیں کہ انہیں پولیس اپنے ساتھ لے گئی یا بی جے پی کے رہنماؤں نے اغوا کیا۔ وزیرِ اعلیٰ نے مزید الزام لگایا کہ 21 جولائی کو وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے قریب حراست کے دوران راہل گاندھی کی ناک سے خون بہہ رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی نہرو خاندان کے پہلے یا آخری فرد نہیں ہیں جنہوں نے ملک کے لیے قربانی دی ہے۔
ان کے مطابق مہاتما گاندھی کو ناتھورام گوڈسے نے قتل کیا، اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی نے اپنی جانیں قربان کیں، جبکہ سونیا گاندھی نے خود کوئی عہدہ قبول کرنے کے بجائے منموہن سنگھ کو وزیر اعظم بنایا۔ ریونت ریڈی نے بی آر ایس کے ورکنگ صدر کے ٹی راما راؤ (کے ٹی آر) پر بھی تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ 2019 میں تلنگانہ میں ان کی ایک مبینہ بے نامی کمپنی کی جانب سے انٹرمیڈیٹ امتحانات کے پرچوں کی جانچ میں بے ضابطگیوں کے باعث 27 طلبہ نے خودکشی کی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسی کمپنی نے بعد میں اپنا نام تبدیل کیا اور مرکزی حکومت و دھرمیندر پردھان کے ساتھ سی بی ایس ای امتحانات کی جانچ کے لیے معاہدہ حاصل کیا، جبکہ ٹینڈر اسی کمپنی کے مطابق تیار کیے گئے تھے۔ ان کے مطابق بعد میں بے ضابطگیوں کے باعث سی بی ایس ای کو جانچ کا عمل منسوخ کرکے دوبارہ شروع کرنا پڑا، جس سے طلبہ پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔ ریونت ریڈی نے یہ بھی الزام لگایا کہ کے ٹی راما راؤ نے دہلی میں بی جے پی رہنماؤں سے رابطہ کرکے کمپنی کو یہ ٹھیکہ دلوایا، اور چونکہ مرکزی حکومت نے کمپنی کے خلاف کارروائی نہیں کی، اس لیے نیٹ امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں میں ملوث افراد کے حوصلے بڑھے۔