نئی دہلی : سماجی کارکن انا ہزارے نے بدھ کے روز وزیر اعظم نریندر مودی کو ایک خط لکھ کر نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج کے دوران مبینہ پولیس کارروائی اور تشدد پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے مرکزی حکومت سے اپیل کی کہ جمہوری اختلاف رائے کو دبانے کے بجائے عوام سے مثبت اور تعمیری مذاکرات کیے جائیں۔اپنے خط میں انا ہزارے نے نیٹ امتحان میں بے ضابطگیوں، طلبہ کی پریشانی اور ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کی بھوک ہڑتال سے متعلق معاملات کو نظام کی سنگین ناکامی قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ دہلی میں حالیہ پولیس کارروائی اور تشدد انتہائی افسوسناک ہے۔ ان کے مطابق پرچہ لیک ہونے، سرکاری بھرتیوں میں تاخیر اور بے روزگاری کے خلاف عوامی ناراضی کو صرف قانون و نظم کا مسئلہ نہیں بلکہ سماجی تکلیف کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
انا ہزارے نے نیٹ امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف طلبہ اور والدین کی 25 روزہ تحریک کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ متعلقہ وزیر کو جوابدہ ٹھہرانا اور ان کا استعفیٰ لینا حکومت کی ساکھ اور کارکردگی کو مضبوط کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے تمام محکموں میں احتساب کا واضح پیغام جائے گا اور حکومت کی طاقت کم نہیں ہوگی۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ 2024 اور 2026 میں بار بار پرچے لیک ہونے کے واقعات سے 2.2 ملین سے زیادہ امیدوار متاثر ہوئے۔ انہوں نے ان خبروں پر بھی افسوس ظاہر کیا جن کے مطابق مایوسی کے باعث 22 طلبہ نے خودکشی کر لی۔ انا ہزارے نے کہا کہ ناکامی کی صورت میں صرف نچلے درجے کے اہلکاروں کو قربانی کا بکرا بنایا جاتا ہے جبکہ کامیابی کا سہرا اعلیٰ قیادت اپنے سر باندھ لیتی ہے۔انسداد بدعنوانی مہم کے رہنما نے سونم وانگچک کی بھوک ہڑتال ختم کرانے کے لیے حکومت کی جانب سے مذاکرات کے بجائے طاقت کے استعمال کو جمہوری اقدار کے منافی قرار دیا۔
انہوں نے اپنے خط میں لکھا کہ جمہوریت میں تصادم کے بجائے مکالمہ ہمیشہ بہتر راستہ ہوتا ہے۔ عوام کی بات صبر سے سننا، اعتماد کی فضا قائم کرنا اور مثبت بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کرنا ہی حقیقی جمہوریت کا امتحان ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا ملک مہاتما گاندھی کے ستیہ گرہ اور آئین میں درج جمہوری اقدار کا وارث ہے۔
انا ہزارے نے وزیر اعظم مودی سے اپیل کی کہ وہ تحمل، حساسیت اور برداشت کا مظاہرہ کریں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور آئینی اصولوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔دوسری جانب سماجی کارکن سونم وانگچک نے مطالبہ کیا کہ حکومت اس بات کی واضح یقین دہانی کرائے کہ احتجاج میں شریک طلبہ اور مظاہرین کے خلاف کوئی انتقامی یا تعزیری قانونی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے اسی شرط کو اپنی غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال ختم کرنے کے لیے ضروری قرار دیا۔سونم وانگچک کی بھوک ہڑتال 25 ویں روز میں داخل ہو چکی ہے۔ یہ احتجاج نیٹ امتحان کے پرچہ لیک معاملے پر مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے کے ساتھ شروع کیا گیا تھا۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ احتجاج میں شریک نوجوانوں نے کوئی جرم نہیں کیا بلکہ انہوں نے صرف ایک شفاف، منصفانہ اور جوابدہ تعلیمی نظام کے لیے اپنی آواز بلند کی ہے۔ اس لیے ان کے خلاف کسی بھی قسم کی انتقامی کارروائی نہیں ہونی چاہیے۔ادھر دہلی پولیس نے قومی دارالحکومت میں احتجاج کے سلسلے میں 10 مقدمات درج کیے ہیں۔اسی دوران دہلی ہائی کورٹ نے پولیس کی مبینہ زیادتیوں سے متعلق دائر تین مفاد عامہ کی درخواستوں پر مرکزی حکومت اور دہلی پولیس کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ہدایت دی ہے کہ واقعے سے متعلق سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر تمام الیکٹرانک ریکارڈ محفوظ رکھے جائیں۔