کولکتہ
مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں ای وی ایم کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کے الزامات سامنے آنے کے بعد ہفتہ کے روز ضلع جنوبی 24 پرگنہ کے 15 پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ ووٹنگ شروع ہو گئی ہے۔ یہ قدم الیکشن کمیشن آف انڈیا کی ہدایت پر اٹھایا گیا ہے تاکہ ووٹنگ کے عمل کی شفافیت اور غیر جانبداری کو یقینی بنایا جا سکے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق دوبارہ ووٹنگ مگراہاٹ ویسٹ اسمبلی حلقے کے 11 بوتھس اور ڈائمنڈ ہاربر اسمبلی حلقے کے 4 بوتھس پر کرائی جا رہی ہے۔ ووٹنگ صبح 7 بجے شروع ہوئی اور شام 6 بجے تک جاری رہے گی۔ کمیشن نے یہ فیصلہ ریاستی انتخابی حکام کی رپورٹ کی بنیاد پر لیا، جس میں ای وی ایم کے ساتھ مبینہ چھیڑ چھاڑ کی شکایات سامنے آئی تھیں۔
اس فیصلے پر سیاسی ردِعمل بھی تیز ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ان دونوں حلقوں کے مزید بوتھس پر بھی دوبارہ ووٹنگ ہونی چاہیے۔ وہیں ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) نے ان واقعات کے لیے بی جے پی کو ذمہ دار ٹھہرایا اور اسے ریاست کی شبیہ خراب کرنے کی سازش قرار دیا۔
بی جے پی کے مغربی بنگال کے شریک انچارج امت مالویہ نے الزام لگایا تھا کہ دوسرے مرحلے کی ووٹنگ کے دوران ڈائمنڈ ہاربر کے فالٹا علاقے میں ووٹروں کو پارٹی امیدوار کے حق میں ووٹ دینے سے روکا گیا۔ اس کے علاوہ ای وی ایم میں مبینہ خرابی کی شکایات بھی سامنے آئی تھیں۔
مدھیہ پردیش حکومت کے وزیر کیلاش وجے ورگیہ نے بھی اس معاملے پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ کچھ بوتھس پر کمل کے نشان والے بٹن پر کالی ٹیپ چپکائی گئی تھی۔ تاہم انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ اس بار مرکزی فورسز اور الیکشن کمیشن کی سختی کے باعث ووٹنگ کافی حد تک شفاف رہی اور لوگوں نے بغیر خوف کے ووٹ ڈالا۔
اس سے قبل مغربی بنگال کے چیف الیکٹورل آفیسر منوج کمار اگروال نے واضح کیا تھا کہ اگر کسی بھی بوتھ پر ای وی ایم کے کسی بٹن پر ٹیپ لگانے کی تصدیق ہوتی ہے تو وہاں دوبارہ ووٹنگ کرائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ تمام شکایات کی جانچ کی جائے گی اور جہاں بھی بے ضابطگی ثابت ہوگی، وہاں ری پولنگ ہوگی۔
ادھر اپوزیشن رہنماؤں نے ریاستی حکومت اور برسرِ اقتدار پارٹی پر سوالات اٹھائے ہیں۔ کچھ رہنماؤں کا الزام ہے کہ انتخابی عمل کو متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تاہم ان الزامات کے درمیان الیکشن کمیشن مسلسل صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے اور سکیورٹی انتظامات کو مضبوط رکھا گیا ہے۔قابلِ ذکر ہے کہ مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کا آخری مرحلہ 29 اپریل کو مکمل ہوا تھا، جس میں تقریباً 90 فیصد ووٹنگ درج کی گئی۔ اب سب کی نظریں 4 مئی کو ہونے والی ووٹوں کی گنتی پر مرکوز ہیں۔
مجموعی طور پر دوبارہ ووٹنگ کا یہ عمل انتخابات کی شفافیت برقرار رکھنے کی سمت ایک اہم قدم مانا جا رہا ہے۔ اس کے ذریعے یہ یقینی بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ہر ووٹر کا ووٹ درست طریقے سے درج ہو اور جمہوری عمل پر کوئی سوال نہ اٹھے۔