نئی دہلی: دہلی کی ایک عدالت نے ہفتہ کو لال قلعہ دھماکہ کیس میں 13 ملزمان کے خلاف قومی تفتیشی ایجنسی (این آئی اے) کی جانب سے داخل کی گئی 7500 صفحات پر مشتمل چارج شیٹ کا نوٹس لے لیا۔ گزشتہ سال 10 نومبر کو لال قلعہ کے قریب ایک گاڑی میں نصب انتہائی طاقتور دیسی ساختہ دھماکا خیز آلے (VBIED) کے ذریعے دھماکہ کیا گیا تھا، جس میں 11 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔
خصوصی جج پرشانت شرما نے این آئی اے کی چارج شیٹ کا نوٹس لیتے ہوئے معاملے کی مزید کارروائی کے لیے 9 ستمبر کی تاریخ مقرر کی ہے۔ این آئی اے نے رواں سال 14 مئی کو 10 ملزمان کے خلاف چارج شیٹ داخل کی تھی۔ چارج شیٹ کے مطابق، ان 10 ملزمان میں مرکزی ملزم ڈاکٹر عمر بن نبی (متوفی) بھی شامل تھا اور تمام ملزمان کا تعلق انصار غزوات الہند (AGuH) سے تھا، جو برصغیر میں القاعدہ (AQIS) کی ایک ذیلی تنظیم ہے۔
اس کے اگلے ماہ این آئی اے نے مزید تین افراد کے خلاف ضمنی چارج شیٹ داخل کی۔ ان میں ایک مفرور ماہرِ اطفال بھی شامل ہے، جسے ایک دہشت گرد ماڈیول کے بانی ارکان میں سے ایک بتایا گیا ہے۔ اس طرح لال قلعہ دھماکہ کیس میں اب تک کل 13 افراد کے خلاف چارج شیٹ داخل کی جا چکی ہے۔