نئی دہلی: راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے جنرل سیکریٹری دتاتریہ ہوسبالے نے ایودھیا کے شری رام للا مندر کے چندہ بکسوں سے مبینہ چوری کے واقعے کو "انتہائی قابل مذمت" قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ قصورواروں کو سخت سزا دی جائے اور مندر کے انتظام میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے تاکہ عقیدت مندوں کا اعتماد برقرار رہے۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ شری رام جنم بھومی پر تعمیر ہونے والا شاندار رام مندر نسل در نسل رام بھکتوں کی جدوجہد، قربانی اور ایثار کی بدولت پورے ہندو سماج کے لیے عقیدت، ایمان اور بھکتی کی علامت بن چکا ہے۔ ہوسبالے نے کہا کہ رام للا مندر کے چندہ بکسوں سے چوری کے افسوسناک واقعے نے ملک بھر کے رام بھکتوں اور ہندو سماج کے جذبات کو مجروح کیا ہے اور اس پر سب کو گہرا دکھ پہنچا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ شری رام جنم بھومی تیرتھ کشیتر ٹرسٹ کی درخواست پر اتر پردیش حکومت نے ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی ہے اور اس کی سفارشات کی بنیاد پر قانونی کارروائی بھی شروع کر دی گئی ہے۔ آر ایس ایس رہنما نے کہا کہ تحقیقات میں جو بھی شخص قصوروار ثابت ہو، اسے سخت سے سخت سزا ملنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اس واقعے کو ایک غیر معمولی معاملہ سمجھتے ہوئے مندر کے انتظام اور نظام میں موجود تمام خامیوں کو سنجیدگی سے دور کیا جانا چاہیے تاکہ ایودھیا کے رام مندر پر لاکھوں عقیدت مندوں کا اعتماد اور عقیدت برقرار رہے۔ ہوسبالے نے امید ظاہر کی کہ شری رام جنم بھومی تیرتھ کشیتر ٹرسٹ بہتر مالی نظم و نسق، شفاف نظام اور مؤثر انتظامی طریقہ کار کے ذریعے ہندو سماج کے اعتماد کو مزید مضبوط کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکیزگی، تقدس اور مذہبی ماحول کے ساتھ شفاف مالی انتظام اور بہتر نظم و نسق ہی عقیدت مندوں کے اعتماد کو مستحکم بنا سکتا ہے۔ آر ایس ایس نے ہندو سماج سے اپیل کی کہ تحقیقات مکمل ہونے تک صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں اور ان عناصر کی سازشوں کو ناکام بنائیں جو اس واقعے کو ہندو دھرم، ہندو سماج اور ملک کو بدنام کرنے کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔
ادھر اس معاملے کی تحقیقات کرنے والی خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) مزید تفتیش کے لیے رام مندر پہنچی اور شواہد اکٹھا کیے۔ ریاستی حکومت نے یکم جولائی کو ایس آئی ٹی کی مدت میں 15 دن کی توسیع کر دی تھی تاکہ وہ تحقیقات کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے معاملے کے تمام پہلوؤں کی مکمل جانچ کر سکے۔ واضح رہے کہ ایس آئی ٹی نے 23 جون کو اپنی ابتدائی رپورٹ پیش کی تھی، جس کے بعد 25 جون کو ایف آئی آر درج کی گئی اور اب تک آٹھ ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔