نئی دہلی: سپریم کورٹ 20 جولائی کو ایودھیا کے رام مندر میں موصول ہونے والے چندے میں مبینہ خرد برد کے معاملے کی منصفانہ اور مقررہ مدت میں تحقیقات سے متعلق دائر متعدد درخواستوں پر سماعت کرے گی۔ سپریم کورٹ کی 20 جولائی کی کاز لسٹ کے مطابق اس معاملے سے متعلق چار الگ الگ درخواستوں کی سماعت چیف جسٹس سوریا کانت، جسٹس جوی مالیہ باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ کرے گا۔ 13 جولائی کو سپریم کورٹ نے ان درخواستوں پر سماعت کے لیے رضامندی ظاہر کرتے ہوئے اتر پردیش حکومت کی جانب سے تشکیل دی گئی خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) کو عدالت میں اسٹیٹس رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی تھی۔
عدالت نے شری رام جنم بھومی تیرتھ ٹرسٹ کو بھی نوٹس جاری کرتے ہوئے اس معاملے میں اس کا جواب طلب کیا تھا۔ سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں کہا تھا کہ چونکہ بعض درخواستوں میں یہ بتایا گیا ہے کہ اس معاملے میں ایف آئی آر درج ہو چکی ہیں اور ایس آئی ٹی بھی تشکیل دی جا چکی ہے، اس لیے ریاستی حکومت کی قائم کردہ ایس آئی ٹی اپنی پیش رفت کی رپورٹ عدالت میں پیش کرے۔
درخواست گزار نریندر کمار گوسوامی نے معاملے کی تحقیقات سی بی آئی سے کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے رام مندر کے انتظامی امور سنبھالنے والے شری رام جنم بھومی تیرتھ ٹرسٹ کے مالی معاملات کا کنٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (سی اے جی) سے آڈٹ کرانے کی بھی درخواست کی ہے۔
ایک دوسری درخواست میں اجے کمار رائے اور دنیش کمار یادو نے مطالبہ کیا ہے کہ ٹرسٹ کے مالی معاملات اور مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات سی بی آئی کی سربراہی میں قائم کثیر شعبہ جاتی خصوصی تحقیقاتی ٹیم سے کرائی جائیں۔ آر جے ڈی کے رکن پارلیمنٹ سدھاکر سنگھ کی جانب سے دائر درخواست میں سپریم کورٹ کی نگرانی میں سی بی آئی تحقیقات کے ساتھ ساتھ ٹرسٹ کے تمام مالی معاملات کا فارنزک آڈٹ کرانے کی بھی استدعا کی گئی ہے۔ اسی طرح ہندو دھرم پریشد کی جانب سے دائر درخواست میں بھی سپریم کورٹ کی نگرانی میں اس معاملے کی تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ 13 جون کو اتر پردیش حکومت نے رام مندر میں موصول ہونے والے چندے میں مبینہ خرد برد کے الزامات کے بعد ٹرسٹ کی درخواست پر ایک ایس آئی ٹی تشکیل دی تھی۔ اس خصوصی تحقیقاتی ٹیم میں لکھنؤ ڈویژنل کمشنر وجے وشواس پنت، انسپکٹر جنرل آف پولیس کرن ایس اور خصوصی سکریٹری (مالیات) نیل رتن شامل ہیں۔ نوٹ: یہ معاملہ اس وقت تحقیقات اور عدالتی کارروائی کے مرحلے میں ہے۔ اب تک کسی بھی ملزم یا متعلقہ فریق کے خلاف الزامات عدالت میں ثابت نہیں ہوئے ہیں۔