نئی دہلی
ہندوستانی ریلوے نے منگل کے روز اپنی ٹکٹ منسوخی (کینسلیشن) پالیسی میں تبدیلی کی ہے۔ ملک کی سب سے بڑی ٹرانسپورٹ سروس نے واضح کیا ہے کہ اگر مسافر اپنی مقررہ روانگی کے وقت سے 8 گھنٹے سے کم پہلے ٹکٹ منسوخ کرتے ہیں تو انہیں کوئی رقم واپس نہیں کی جائے گی۔
کینسلیشن پر جرمانے کی مدت کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا گیا کہ اگر ٹکٹ سفر سے 72 گھنٹے پہلے منسوخ کیا جائے تو زیادہ سے زیادہ رقم واپس ملے گی۔ اگر ٹکٹ 72 سے 24 گھنٹے کے درمیان منسوخ کیا جائے تو کرائے کا 25 فیصد کاٹ لیا جائے گا، جبکہ 24 سے 8 گھنٹے کے درمیان منسوخ کرنے پر 50 فیصد رقم کٹ جائے گی۔
ٹکٹنگ خدمات میں بہتری کے حوالے سے مرکزی وزیر ریلوے اشونی ویشنو نے کہا کہ یہ اقدامات ایجنٹوں اور دلالوں کی جانب سے ٹکٹوں کی ذخیرہ اندوزی کو روکنے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔
اشونی ویشنو نے بتایا کہ ٹکٹنگ نظام میں بہتری کے تحت کئی اہم اقدامات کیے گئے ہیں:
۔1 تتکال بکنگ کے لیے آدھار پر مبنی او ٹی پی نظام نافذ کیا گیا ہے۔
۔2 ایجنٹوں کے لیے پہلے 30 منٹ تک تتکال ٹکٹ بکنگ پر پابندی عائد کی گئی ہے۔
۔3 غیر مستند (جعلی) صارفین کو ہٹانے کے لیے اینٹی بوٹ سسٹم شامل کیا گیا ہے۔
۔4 اس کے علاوہ، 3 کروڑ مشتبہ آئی ڈیز کو پہلے ہی غیر فعال (ڈی ایکٹیویٹ) کیا جا چکا ہے۔
اس دوران اب کاؤنٹر ٹکٹ پر روانگی سے 30 منٹ پہلے تک ٹریول کلاس اپ گریڈ کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ اس نئے اصول سے پہلے مسافر صرف چارٹ تیار ہونے تک ہی اپ گریڈ کر سکتے تھے۔ ریلوے کے مطابق اس تبدیلی سے مسافروں کو زیادہ آرام دہ سفر کے لیے بہتر اختیارات ملیں گے۔
ہندوستان میں ریلوے سروس کو معاشی ترقی کے ساتھ ساتھ عام لوگوں کے سفر کو آسان اور سہل بنانے کی ریڑھ کی ہڈی مانا جاتا ہے۔ طویل فاصلے کے سفر کے لیے ٹرینیں ہی سب سے سستا ذریعہ ہیں۔ ایک طرف حکومت کی جانب سے ریلوے نیٹ ورک کی توسیع اور جدید کاری کے دعوے کیے جا رہے ہیں، تو دوسری طرف ٹرینوں میں بنیادی سہولیات کی کمی اب بھی برقرار ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ٹرینوں میں صفائی کے ناقص انتظامات کی شکایات مسلسل بڑھ رہی ہیں۔