نئی دہلی: کانگریس رہنما راہل گاندھی نے ایک نیٹ امیدوار کی مبینہ خودکشی کے معاملے پر وزیرِ اعظم نریندر مودی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ بارہ برسوں میں تعلیمی نظام کو پہنچنے والے نقصان کی قیمت آج ملک کی پوری نوجوان نسل ادا کر رہی ہے۔
راہل گاندھی کا یہ ردِعمل ان میڈیا رپورٹس کے بعد سامنے آیا جن میں دعویٰ کیا گیا کہ مدھیہ پردیش کے ضلع ماؤگنج سے تعلق رکھنے والی نیٹ امیدوارہ آکانکشا چترویدی نے ناگپور میں مبینہ طور پر خودکشی کر لی۔ رپورٹس کے مطابق وہ قومی اہلیتی و داخلہ امتحان (انڈر گریجویٹ) میں بے ضابطگیوں اور پرچہ لیک ہونے کی خبروں کے بعد ذہنی دباؤ کا شکار ہوگئی تھیں۔
راہل گاندھی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ’’ایکس‘‘ پر ہندی زبان میں جاری اپنے بیان میں کہا کہ آکانکشا کا خواب ڈاکٹر بن کر ملک اور سماج کی خدمت کرنا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ آکانکشا کے والد ایک کسان ہیں جنہوں نے اپنی بیٹی کے ڈاکٹر بننے کے خواب کو پورا کرنے کے لیے کسان کریڈٹ کارڈ کے ذریعے تین لاکھ روپے کا قرض لیا۔
انہوں نے ناگپور میں باورچی کی ملازمت بھی اختیار کی تاکہ بیٹی وہاں کوچنگ حاصل کر سکے۔ کانگریس رہنما نے کہا کہ ایک باپ نے اپنی بیٹی کے خواب کی تکمیل کے لیے ہر ممکن کوشش کی، لیکن پھر نیٹ کا پرچہ لیک ہوگیا، امتحان منسوخ ہوا اور اسی غیر یقینی صورتِ حال کے دوران آکانکشا ہمیشہ کے لیے دنیا سے رخصت ہوگئی۔
راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ آکانکشا کی موت محض خودکشی نہیں بلکہ وزیرِ اعظم مودی کے دور میں قائم ایک بدعنوان اور ناکام نظام کا المناک نتیجہ ہے۔ انہوں نے مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ آج بھی اپنے عہدے پر برقرار ہیں، جبکہ صرف کمیٹیاں، تبادلے اور تحقیقات ہی دہرائی جا رہی ہیں، مگر نہ کوئی حقیقی اصلاحات ہو رہی ہیں اور نہ ہی انصاف فراہم کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اقتدار ہمیشہ قائم نہیں رہتا، آتا اور جاتا رہتا ہے، لیکن گزشتہ بارہ برسوں میں تعلیمی نظام کو جس حد تک نقصان پہنچایا گیا ہے، اس کی قیمت پوری نوجوان نسل ادا کر رہی ہے۔ واضح رہے کہ آکانکشا چترویدی کی مبینہ خودکشی کے معاملے نے ایک بار پھر نیٹ امتحان، امتحانی شفافیت اور طلبہ کی ذہنی صحت سے متعلق بحث کو تیز کر دیا ہے۔