نئی دہلی: مرکزی وزیر جتیندر سنگھ نے وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے باہر دھرنے پر بیٹھے کانگریس کے رہنما اور قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی پر وعدہ خلافی کا الزام عائد کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ راہل گاندھی کی ابتدائی مطالبہ مان لیا گیا، لیکن اس کے بعد انہوں نے اپنا مطالبہ بدل دیا۔
جتیندر سنگھ نے کہا کہ راہل گاندھی پہلے پارلیمنٹ میں طلبہ پر مبینہ لاٹھی چارج اور نیٹ (NEET) امتحان سے متعلق معاملے پر بحث کرانے کا مطالبہ کر رہے تھے، مگر جب حکومت نے اس پر آمادگی ظاہر کر دی تو انہوں نے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ شروع کر دیا۔
انہوں نے کہا، ’’کچھ دیر پہلے اطلاع ملی کہ کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے، راہل گاندھی، پرینکا گاندھی اور دیگر سینئر رہنما اچانک اکبر روڈ کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ دھرنے پر بیٹھ گئے ہیں۔ حکومت نے ان سے بات کرنے کے لیے مجھے اور مرکزی داخلہ سکریٹری گووند موہن کو موقع پر بھیجا۔‘‘
جتیندر سنگھ کے مطابق، راہل گاندھی سے درخواست کی گئی کہ وہ دھرنا ختم کریں کیونکہ یہ مقام دھرنے کے لیے مقرر نہیں ہے اور اس سے عام لوگوں کو بھی شدید دشواری ہو رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا، ’’راہل گاندھی نے کہا کہ اگر حکومت پارلیمنٹ میں نیٹ اور اس سے متعلق احتجاج کے تمام معاملات پر بحث کے لیے تیار ہو جائے تو وہ فوراً دھرنا ختم کر دیں گے۔ حکومت کی اعلیٰ قیادت سے منظوری لینے کے بعد انہیں یقین دہانی کرائی گئی کہ ان کا مطالبہ قبول کر لیا گیا ہے اور حکومت پارلیمنٹ میں اس موضوع پر بحث کے لیے تیار ہے۔‘‘