نئی دہلی
کانگریس رہنما راہل گاندھی نے جمعہ کو کہا کہ مودی حکومت کا یہ دعویٰ کہ گریٹ نکوبار آئی لینڈ پروجیکٹ دفاع اور ٹرانس شپمنٹ بندرگاہ کے لیے ہے، ایک "جھوٹ" ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ درحقیقت اس منصوبے کا مقصد ایک بڑے صنعت کار کو ہندوستان کی انتہائی قیمتی ماحولیاتی زمین پر ہوٹل اور کیسینو تعمیر کرنے میں مدد دینا ہے۔راہل گاندھی نے اپریل کے آخر میں انڈمان و نکوبار جزائر کے اپنے دورے پر مبنی 16 منٹ سے زائد دورانیے کی ایک ویڈیو جاری کی۔
ایکس پر ویڈیو کے ساتھ اپنی پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ میں ہندوستان کے جنوبی ترین مقام پر گیا۔ میں اندرا پوائنٹ پر کھڑا ہوا، ان درختوں کے نیچے چلا جو صدیوں سے موجود ہیں، دنیا کی خوبصورت ترین مرجانی چٹانوں میں غوطہ لگایا اور وہاں رہنے والے لوگوں سے ملاقات کی۔ قبائلی برادریاں، جن کی زمین جنگلاتی حقوق کے قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے لی جا رہی ہے، اور وہ آبادکار جن میں سے بہت سے سابق فوجی ہیں، جنہیں ہندوستانی حکومت نے ان جزیروں میں آباد کیا تھا لیکن انہیں مناسب معاوضہ نہیں مل رہا۔
لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف نے کہا کہ مودی حکومت اور بی جے پی آپ کو بتاتی ہے کہ گریٹ نکوبار پروجیکٹ دفاع کے لیے ہے، لیکن ایسا نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ آئی این ایس باز کو وسعت دیجیے، ہم حکومت کی مکمل حمایت کریں گے۔ بحریہ گزشتہ پانچ برسوں سے اس کی توسیع کا مطالبہ کر رہی ہے لیکن اسے نظر انداز کیا گیا ہے۔راہل گاندھی نے کہا کہ حکومت عوام کو یہ باور کرا رہی ہے کہ یہ منصوبہ ایک ٹرانس شپمنٹ بندرگاہ کے لیے ہے، جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ ہندوستان پہلے ہی کیرالہ میں ایک ایسی بندرگاہ تعمیر کر رہا ہے جو مرکزی سرزمین پر واقع ہے۔راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ حقیقت یہ ہے کہ ایک کروڑ پچاس لاکھ درخت کاٹے جا رہے ہیں، مرجانی چٹانوں کو سرکاری نقشوں سے غائب کیا جا رہا ہے، فوجیوں اور قبائلیوں کو بے دخل کیا جا رہا ہے تاکہ ایک صنعت کار ہندوستان کی سب سے قیمتی ماحولیاتی زمین پر ہوٹل اور کیسینو بنا سکے۔
انہوں نے کہا کہ جن نوجوانوں سے بھی ان کی بات ہوئی ہے وہ اس حقیقت کو سمجھتے ہیں کہ کوئی بھی منافع ایسی قدرتی دولت کی تباہی کے قابل نہیں جو دوبارہ حاصل نہ کی جا سکے۔راہل گاندھی نے کہا کہ وہ ماحول دوست اور متوازن ترقی کے حامی ہیں اور ان کے مطابق یہ جزائر دنیا کے بہترین پائیدار سیاحتی مقامات میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔
ویڈیو، جس کا عنوان ’’یہ وہ ہے جو مودی آپ کو نہیں دکھانا چاہتے‘‘ رکھا گیا ہے، میں راہل گاندھی سمندر میں غوطہ لگاتے، آبادکاروں اور قبائلی نمائندوں سے گفتگو کرتے اور اپنے دورے کے تجربات بیان کرتے نظر آتے ہیں۔ویڈیو میں انہوں نے کہا کہ منصوبہ یہ ہے کہ ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں درخت کاٹے جائیں، انہیں غیر قانونی طور پر باہر بھیجا جائے، اربوں ڈالر کمائے جائیں اور پھر اس رقم سے ہوٹل، کیسینو اور رئیل اسٹیٹ منصوبے بنائے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ جس علاقے کی بات کی جا رہی ہے وہ نئی دہلی کے رقبے سے تقریباً چار گنا بڑا ہے۔راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ حکومت ملک کے سب سے محفوظ اور قدرتی ماحولیاتی خطے میں یہ منصوبہ نافذ کر رہی ہے اور ان لوگوں کی زمین چھین رہی ہے جنہیں وہاں آباد کیا گیا تھا، جبکہ قبائلیوں کی زمین بھی ان سے لی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کانگریس کی قائم کردہ بحریہ کی چوکی آئی این ایس باز گزشتہ پانچ برسوں سے توسیع کا مطالبہ کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر آپ دفاعی دلیل دینا چاہتے ہیں تو آئی این ایس باز کو ضرور وسعت دیجیے، جتنی چاہیں توسیع کریں، لیکن اس کے لیے بارانی جنگلات کو تباہ کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ وہاں اردگرد کافی زمین موجود ہے۔راہل گاندھی نے مزید کہا کہ وہ کہتے ہیں کہ ٹرانس شپمنٹ بندرگاہ بنائی جائے گی، لیکن یہ دلیل بھی غلط ہے کیونکہ کیرالہ میں پہلے ہی ایک بندرگاہ تعمیر کی جا رہی ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ اصل مقصد گوتم اڈانی کو فائدہ پہنچانا ہے اور دفاعی اداروں کا نام استعمال کر کے زمین حاصل کی جا رہی ہے۔راہل گاندھی نے کہا کہ مجھے ہندوستان کے دفاع کے نام پر یہ دلائل نہ دیجیے۔ بی جے پی کا ہر وہ شخص جو یہ باتیں پھیلا رہا ہے، وہ گوتم اڈانی، ان کے مفادات اور وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ ان کے تعلقات کا تحفظ کر رہا ہے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ آئی این ایس باز کو مکمل توسیع کا حق دیا جانا چاہیے اور اس مقصد کے لیے جنگلات کو نقصان پہنچانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ادھر کانگریس کے سینئر رہنما جے رام رمیش نے راہل گاندھی کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کہا کہ گریٹ نکوبار آئی لینڈ پروجیکٹ ایک ’’ماحولیاتی تباہی‘‘ ہے۔انہوں نے ایکس پر لکھا کہ اس منصوبے کے حق میں اب مصنوعی اسٹریٹجک دلائل پیش کیے جا رہے ہیں، حالانکہ دیگر متبادل موجود ہیں۔ اس منصوبے کو ماحولیاتی اور جنگلاتی منظوری مشکوک بنیادوں پر دی گئی ہے۔