پٹنہ
بہار کی سابق وزیر اعلیٰ اور راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کی سینئر رہنما رابڑی دیوی کو پٹنہ کے 10 سرکولر روڈ واقع سرکاری رہائش گاہ خالی کرنے کا نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ انتظامیہ نے انہیں مکان خالی کرنے کی ہدایت دی ہے، جس پر رابڑی دیوی نے سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں مکان خالی نہیں کروں گی، اگر خالی کرانا ہے تو فورس بلا کر خالی کرا لیں۔
اطلاعات کے مطابق یہ سرکاری رہائش گاہ اب بہار کے وزیر برائے مویشی پروری و ماہی پروری نند کشور رام کو الاٹ کر دی گئی ہے۔ حکومت کے اس فیصلے کے بعد ریاستی سیاست میں ایک بار پھر ہلچل پیدا ہو گئی ہے۔
یہ نوٹس تقریباً دو دہائیوں پر محیط اس دور کے خاتمے کی علامت سمجھا جا رہا ہے جس کے دوران 10 سرکولر روڈ کا یہ بنگلہ بہار کی سیاست کا ایک اہم مرکز بن گیا تھا۔ پٹنہ کے وی آئی پی علاقے میں واقع یہ رہائش گاہ برسوں سے رابڑی دیوی کا سرکاری پتہ رہی ہے۔ اس سے قبل نومبر 2025 میں بھی انہیں یہی مکان خالی کرنے کا نوٹس دیا گیا تھا۔
آر جے ڈی کی سیاسی سرگرمیوں کا مرکز
وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ اور راج بھون کے قریب واقع یہ بنگلہ صرف ایک سرکاری مکان نہیں بلکہ آر جے ڈی کی سیاسی سرگرمیوں کا مرکزی مقام بھی رہا ہے۔ پارٹی کے کئی اہم فیصلے اور حکمت عملی سے متعلق اجلاس یہیں منعقد ہوتے رہے ہیں۔
اسی وجہ سے یہ مقام صرف لالو خاندان ہی نہیں بلکہ پارٹی کارکنوں اور رہنماؤں کے لیے بھی خاص اہمیت رکھتا ہے اور آر جے ڈی کی ایک شناخت سمجھا جاتا ہے۔
رابڑی دیوی کو نئی رہائش گاہ منتقل ہونے کی ہدایت
ذرائع کے مطابق حکام نے رابڑی دیوی سے درخواست کی ہے کہ وہ بہار قانون ساز کونسل میں قائدِ حزبِ اختلاف ہونے کے ناطے انہیں الاٹ کی گئی 39 ہارڈنگ روڈ والی سرکاری رہائش گاہ میں منتقل ہو جائیں۔
حکومت کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی رہائشی الاٹمنٹ کے قواعد کے مطابق کی جا رہی ہے اور تمام عوامی نمائندوں کو مقررہ ضوابط کی پابندی کرنی چاہیے۔
اسمبلی اسپیکر کا ردِعمل
بہار اسمبلی کے اسپیکر پریم کمار نے اس معاملے پر کہا کہ حکومت نے قواعد مقرر کر رکھے ہیں اور سب کو، خصوصاً عوامی نمائندوں کو، ان پر عمل کرنا چاہیے۔انہوں نے یاد دلایا کہ گزشتہ سال نومبر میں بھی سابق وزیر اعلیٰ کو اسی نوعیت کا نوٹس جاری کیا گیا تھا، جس پر آر جے ڈی رہنماؤں نے ناراضگی ظاہر کی تھی۔
آر جے ڈی نے سیاسی انتقام قرار دیا
آر جے ڈی نے حکومت کے اس اقدام کو سیاسی محرکات پر مبنی قرار دیا ہے۔ پارٹی کے ترجمان شکتی یادو نے کہا کہ عمارتی تعمیرات کے وزیر ایک سمجھدار شخص ہیں، لیکن یہ فیصلہ ظاہر کرتا ہے کہ "1 اینے مارگ" پر بی جے پی کا اثر و رسوخ کس حد تک بڑھ چکا ہے۔
ان کا اشارہ جے ڈی یو رہنما وجے کمار سنہا کی طرف تھا۔
روہنی آچاریہ نے بھی پہلے اعتراض کیا تھا
رابڑی دیوی کی بیٹی روہنی آچاریہ نے بھی اس سے قبل ایسے نوٹس پر ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ حکومت کی سب سے بڑی ترجیح کروڑوں لوگوں کے رہنما لالو پرساد کی توہین کرنا ہے۔ آپ انہیں گھر سے تو نکال سکتے ہیں، لیکن لوگوں کے دلوں سے کیسے نکالیں گے؟ اگر ان کی صحت کا خیال نہیں رکھا گیا تو کم از کم ان کی سیاسی حیثیت کا احترام کیا جانا چاہیے تھا۔