نئی دہلی:دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی کو یقین دلایا ہے کہ مالویہ نگر آتشزدگی سانحہ کی تحقیقات مکمل شفافیت، غیر جانبداری اور قانونی تقاضوں کے مطابق کی جا رہی ہیں۔
ریکھا گپتا کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ نے واقعے کی تحقیقات اور اس سلسلے میں گرفتار کیے گئے اتراکھنڈ کے رہائشی کیشو نیگی کے معاملے پر اپنی تشویش کا اظہار کیا۔
سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں ریکھا گپتا نے کہا کہ "مالویہ نگر کا یہ المناک حادثہ ہم سب کے لیے انتہائی تکلیف دہ ہے۔ اس حساس معاملے پر آپ کی تشویش فطری بھی ہے اور اہم بھی۔"
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے کہ تحقیقات مکمل غیر جانبداری اور شفافیت کے ساتھ انجام دی جائیں۔ ان کے مطابق "دہلی حکومت کا واضح مؤقف ہے کہ نہ کوئی مجرم بچنا چاہیے اور نہ ہی کسی بے گناہ کے ساتھ ناانصافی ہونی چاہیے۔"
وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ حقائق، شواہد اور قانون کی روشنی میں مکمل اور منصفانہ تحقیقات کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کا واحد مقصد سچائی کو سامنے لانا اور انصاف کے تقاضے پورے کرنا ہے۔
دوسری جانب دہلی پولیس نے اتوار کے روز اس مقدمے میں گرفتار ملزم کیشو نیگی کو مزید تفتیش کے لیے جائے وقوعہ پر لے جا کر واقعے کی کڑیاں جوڑنے کی کوشش کی۔ پولیس حکام کے مطابق سانحہ کے مختلف پہلوؤں اور واقعاتی ترتیب کو سمجھنے کے لیے موقع پر تحقیقات جاری ہیں۔
کیشو نیگی مالویہ نگر کے اس بیڈ اینڈ بریک فاسٹ ادارے میں باورچی کے طور پر کام کرتا تھا جہاں 3 جون کو خوفناک آگ بھڑک اٹھی تھی۔ اس سانحے میں 13 غیر ملکی شہریوں سمیت مجموعی طور پر 21 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
ادھر اتوار کے روز ایک اور غیر ملکی شہری دوران علاج دم توڑ گیا جس کے بعد جاں بحق افراد کی تعداد بڑھ کر 22 ہو گئی ہے۔ متعدد زخمی اب بھی مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔
واضح رہے کہ فلورش اِن ہوٹل میں پیش آنے والی اس ہولناک آتشزدگی نے دارالحکومت میں ہوٹلوں اور گیسٹ ہاؤسز کے حفاظتی انتظامات پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جبکہ حکام واقعے کی وجوہات اور ذمہ داروں کے تعین کے لیے تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں۔