نئی دہلی
کانگریس رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی واڈرا نے پیر کے روز وزیر اعظم نریندر مودی کے کیرالہ میں سیاسی اتحاد سے متعلق بیانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کے عوام زمینی حقیقت سے بخوبی واقف ہیں۔انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پورا کیرالہ جانتا ہے کہ اتحاد کن کے درمیان ہے۔ وزیر اعظم کچھ بھی کہیں، سب کو حقیقت معلوم ہے۔
کانگریس لیڈر نے مغربی ایشیا میں جاری تنازع پر بھی تشویش ظاہر کی اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس پر پارلیمنٹ میں بحث کرائی جائے۔
انہوں نے کہا کہ ہم مغربی ایشیا کے تنازع پر بحث کا مطالبہ کر رہے ہیں کیونکہ پورا ملک مشکلات کا سامنا کر رہا ہے۔ گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں اور چیلنجز میں اضافہ ہو رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جنگ جیسے حساس موضوع پر سیاست کرنا درست نہیں ہے، لیکن بڑھتے ہوئے مسائل کا حل ضروری ہے۔ اسی لیے ہم بحث چاہتے ہیں۔ حکومت کو اپنی تیاری واضح کرنی چاہیے تاکہ ہم مل کر مستقبل کی حکمت عملی پر کام کر سکیں۔
اس سے قبل وزیر اعظم نریندر مودی نے کیرالہ کے تھریسور میں اپنے روڈ شو کو "یادگار" قرار دیا تھا۔انہوں نے لیفٹ ڈیموکریٹک فرنٹ (ایل ڈی ایف) اور یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (یو ڈی ایف) پر شدید حملہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ انہوں نے دہائیوں تک ریاست کو "لوٹا" اور مبینہ طور پر اقتدار کی بندر بانٹ کی۔
پالکڑ میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ایل ڈی ایف اور یو ڈی ایف نے دہائیوں تک کیرالہ کو لوٹا ہے اور ان کے درمیان یہ سمجھوتہ رہا ہے کہ کچھ عرصہ ایل ڈی ایف حکومت چلائے گا اور اپنی جیبیں بھرے گا، پھر کچھ عرصہ بعد یو ڈی ایف لوٹ مار کرے گا۔ ہمارا کیرالہ ان کے اس اتحاد میں پھنس گیا ہے۔ آج کل کمیونسٹ اور کانگریس مل کر ایک نیا پروپیگنڈا چلا رہے ہیں، جہاں کمیونسٹ کہتے ہیں کہ کانگریس بی جے پی کی بی ٹیم ہے اور کانگریس کہتی ہے کہ کمیونسٹ بی جے پی کی بی ٹیم ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے اب یہ بھی مان لیا ہے کہ اس کیرالہ انتخاب میں اگر کوئی ایک ٹیم ‘اے ٹیم’ ہے تو وہ صرف بی جے پی ہے۔
کانگریس اور سی پی آئی (ایم) کے ایک دوسرے کو بی جے پی کی "بی ٹیم" قرار دینے پر وزیر اعظم نے کہا کہ آج عوام کے سامنے یہ حقیقت آنی چاہیے کہ آنے والے انتخابات میں کون کس کی بی ٹیم ہے۔ پورے ملک میں یہ ایک دوسرے کے ساتھ اتحاد میں ہیں۔ بہار، جھارکھنڈ، آندھرا پردیش، منی پور، تریپورہ اور آسام کو دیکھیں—یہ سب جگہ ایک ساتھ ہیں۔ یہاں تک کہ تمل ناڈو میں بھی اتحاد ہے، لیکن کیرالہ میں کانگریس اور بائیں بازو کی پارٹیاں ایک دوسرے پر الزامات لگا رہی ہیں، اس لیے آپ کو دونوں سے محتاط رہنا چاہیے۔
کیرالہ اسمبلی انتخابات کے لیے ووٹنگ ایک ہی مرحلے میں 9 اپریل کو ہوگی، جبکہ ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو کی جائے گی۔