نئی دہلی
کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے امریکہ میں صنعت کار گوتم اڈانی کے خلاف معاملے سے متعلق خبروں کے پس منظر میں جمعہ کے روز الزام لگایا کہ وزیرِ اعظم نریندر مودی نے امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدہ نہیں بلکہ اڈانی کی رہائی کا سودا کیا ہے۔ خبروں میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی حکام ہندوستانی ارب پتی گوتم اڈانی کے خلاف دھوکہ دہی کے الزامات کو نمٹانے کی سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ اڈانی گروپ ماضی میں اپنے اوپر لگنے والے تمام الزامات کو مسترد کرتا رہا ہے۔
لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے ’ایکس‘ پر پوسٹ کیا کہ ’کمپرومائزڈ پی ایم‘ نے تجارتی معاہدہ نہیں، اڈانی کی رہائی کا سودا کیا۔کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے دعویٰ کیا کہ اب یہ واضح ہو گیا ہے کہ وزیرِ اعظم مودی نے ہندوستان-امریکہ تجارتی معاہدے پر کیوں رضامندی ظاہر کی اور انہوں نے آپریشن سندور کو اچانک کیوں روک دیا۔
انہوں نے ’ایکس‘ پر پوسٹ کیا کہ اب یہ صاف ہو گیا ہے کہ وزیرِ اعظم نے ہندوستان اور امریکہ کے درمیان اس انتہائی مایوس کن اور یکطرفہ تجارتی ’ڈیل‘ کو کیوں قبول کیا، جو دراصل امریکہ کے حق میں یکطرفہ سودا تھا۔ یہ بھی واضح ہو گیا ہے کہ انہوں نے 10 مئی 2025 کو امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی دھمکیوں کے آگے جھکتے ہوئے قومی مفاد کے بجائے ان کے دباؤ میں آپریشن سندور کو اچانک کیوں روک دیا۔
انہوں نے سوال کیا کہ وزیرِ اعظم آخر اور کتنا سمجھوتہ کریں گے؟