نئی دہلی
کانگریس نے امریکی تجارتی نمائندے کے دورۂ ہندوستان کا حوالہ دیتے ہوئے منگل کے روز کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خوش کرنے کی پالیسی ترک کر دینی چاہیے اور واشنگٹن کے ساتھ ایسے تجارتی معاہدے پر دباؤ میں آ کر دستخط نہیں کرنے چاہئیں جس کی موجودہ شکل ہندوستانی مفادات کے خلاف دکھائی دیتی ہے۔
کانگریس کے جنرل سیکریٹری جے رام رمیش نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ امریکہ کے ساتھ جس شکل میں تجارتی معاہدے پر اتفاق کیا گیا ہے، اس کے جموں و کشمیر، ہماچل پردیش، بہار، مدھیہ پردیش، راجستھان اور مہاراشٹر سمیت مختلف ریاستوں کے کسانوں پر سنگین منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ امریکی تجارتی نمائندہ جیمیسن گریر آج اور کل نئی دہلی میں موجود ہیں۔ وزیر اعظم مودی کی درخواست پر 6 فروری 2026 کو ہندوستان-امریکہ مشترکہ تجارتی بیان جاری کیا گیا تھا۔ اُس وقت مودی پارلیمنٹ میں راہل گاندھی کی جانب سے چین کے معاملے پر لگائے گئے الزامات کے دباؤ کا سامنا کر رہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ نے ہندوستانی برآمدات پر عائد محصولات کو 25 فیصد سے کم کرکے 18 فیصد کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ اس کے بدلے میں ہندوستان نے امریکی زرعی اور صنعتی مصنوعات پر اپنے محصولات یا تو مکمل طور پر ختم کرنے یا نمایاں حد تک کم کرنے کا وعدہ کیا، جبکہ آئندہ پانچ برسوں میں امریکہ سے 500 ارب امریکی ڈالر تک کی خریداری کا عہد بھی کیا۔
رمیش نے مزید کہا کہ 20 فروری 2026 کو امریکی سپریم کورٹ نے صدر ٹرمپ کی جوابی محصولات (ریسیپروکل ٹیرف) کی پالیسی کو غیر قانونی قرار دے دیا تھا۔ اس فیصلے کے نتیجے میں 6 فروری 2026 کے مشترکہ بیان میں ہندوستان کو دی گئی امریکی ٹیرف رعایت عملاً ختم ہو گئی۔
ان کے مطابق امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے چند ہی گھنٹوں بعد امریکہ نے ہندوستان سمیت اپنے تمام تجارتی شراکت داروں پر عارضی طور پر 10 فیصد محصول عائد کر دیا۔
کانگریس رہنما نے کہا کہ اس اقدام کی قانونی بنیاد 24 جولائی 2026 کو ختم ہو رہی ہے۔ اس کے بعد کیا ہوگا، اس حوالے سے کافی غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان تقریباً 60 دیگر ممالک کے ساتھ امریکی قوانین کی مبینہ خلاف ورزی سے متعلق غیر منصفانہ تجارتی طریقوں کی تحقیقات کے دائرے میں ہے۔ ان تحقیقات کے حتمی نتائج آئندہ چند ہفتوں میں سامنے آنے کی توقع ہے۔