ایودھیا
صدر دروپدی مرمو 19 مارچ کو ایودھیا کا دورہ کرنے والی ہیں، جو کہ نورتری کے پہلے دن کے ساتھ موافق ہے۔ ضلع مجسٹریٹ نکھل ٹیکرام فنڈے نے تصدیق کی کہ اس دورے کو خوش اسلوبی سے انجام دینے کے لیے تیاریاں جاری ہیں، جن میں ہجوم کے نظم و نسق اور پولیس کی تعیناتی شامل ہے۔یہ دورہ 27 مارچ کو ہونے والی رام نومی سے پہلے ہو رہا ہے، جس کے لیے بھی علیحدہ تقاریب کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا كہ صدر مرمو نورتری کے پہلے دن یعنی 19 مارچ کو ایودھیا آئیں گی۔ ہم نے انتظامی کمیٹی کے ساتھ پروگرام کی منصوبہ بندی اور تنظیم کے حوالے سے میٹنگ کی ہے۔ ہم یقینی بنائیں گے کہ پروگرام بہترین انداز میں منعقد ہو۔ جیسا کہ آپ نے ذکر کیا، 27 مارچ کو رام نومی کی شاندار تقریب بھی ہے، اس دن کے لیے بھی ہجوم کے نظم و نسق کے مطابق منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ ہر چیز کی نگرانی اور پروگرام کی کامیاب تکمیل کے لیے پولیس اہلکار تعینات ہوں گے۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ دونوں تقریبات کے پرامن اور ہموار انعقاد کے لیے مناسب سکیورٹی انتظامات اور ہجوم کنٹرول کے اقدامات کیے جائیں گے۔اس سے قبل، 24 فروری کو صدر دروپدی مرمو نے راشٹرپتی بھون میں چکراورتی راجگوپالاچاری کا مجسمۂ نیمہ (بَسٹ) کی نقاب کشائی کی۔ راجگوپالاچاری آزاد ہندوستان کے پہلے اور واحد گورنر جنرل تھے۔
راجگوپالاچاری کا یہ بَسٹ اشوک منڈپ کے قریب گرینڈ اوپن سیڑھیوں پر، مہاتما گاندھی کے مجسمے کے سامنے نصب کیا گیا ہے، جس نے ایڈون لٹیئنز کے بَسٹ کی جگہ لی ہے۔
یہ اقدام “نوآبادیاتی ذہنیت کی باقیات” سے نجات پانے کے لیے اٹھائے جانے والے سلسلہ وار اقدامات کا حصہ ہے۔ بعد ازاں صدر نے راشٹرپتی بھون کلچرل سینٹر میں راج جی اُتسو میں شرکت کی، جہاں انہوں نے ان کی زندگی اور خدمات پر مبنی تصاویر اور کتب کی نمائش کا دورہ بھی کیا۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ جب راج جی گورنمنٹ ہاؤس (جو اب راشٹرپتی بھون کہلاتا ہے) پہنچے تو انہوں نے اپنے کمرے میں رام کرشن پرمہنس اور مہاتما گاندھی کی تصاویر آویزاں کیں۔
راج جی نے واضح پیغام دیا کہ اگرچہ ہندوستان باضابطہ طور پر ابھی ایک ڈومینین تھا، مگر سوراج ہندوستانیوں کے دلوں میں مکمل طور پر قائم ہو چکا تھا۔صدر نے کہا کہ راج جی نے ذہنی نوآبادیات سے نجات کی ایک متاثرکن مثال قائم کی۔ ان کے نظریات قومی مہم میں جھلکتے ہیں، جسے ہندوستان کے عوام نے اپنی وراثت پر فخر کرنے اور نوآبادیاتی ذہنیت کی باقیات کو ختم کرنے کے لیے اپنایا ہے۔ راج جی کے خیالات اور اعمال میں قومی شعور اور تمام ہندوستانیوں، خصوصاً کمزور طبقات سے وابستگی نمایاں نظر آتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ماضی میں راشٹرپتی بھون کی راہداریوں میں برطانوی سامراجی اہلکاروں کی تصاویر آویزاں تھیں، جنہوں نے ہندوستان کا استحصال کیا۔ اب ‘پرم ویر دیرگھ’ نامی گیلری کو پرم ویر چکر ایوارڈ یافتگان کی تصاویر سے مزین کیا گیا ہے۔ اسی طرح راشٹرپتی بھون میں ‘گرنتھ کُٹیر’ قائم کیا گیا ہے، تاکہ ہندوستان کی کلاسیکی زبانوں کے مخطوطات اور متون میں محفوظ علم کی عظیم روایت کو محفوظ رکھا جا سکے۔