نئی دہلی
وزیر اعظم نریندر مودی 4 جولائی کو راجستھان اور گجرات کا دورہ کریں گے، جہاں وہ کئی اہم بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کا افتتاح کریں گے، ترمیم شدہ اُڑان اسکیم کا آغاز کریں گے، تقریباً 1.06 لاکھ کروڑ روپے مالیت کے ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح اور سنگ بنیاد رکھیں گے، اور گجرات میں سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ کی ایک جدید سہولت کا افتتاح کریں گے۔
جاری کردہ بیان کے مطابق، وزیر اعظم صبح تقریباً 10:45 بجے جودھ پور ہوائی اڈے کے نئے ٹرمینل بلڈنگ کا افتتاح کریں گے اور جودھ پور میں ترمیم شدہ اُڑان اسکیم کا آغاز کریں گے۔ اس کے بعد وہ دوپہر تقریباً 12:15 بجے بالوترا پہنچیں گے، جہاں وہ تقریباً 1.06 لاکھ کروڑ روپے مالیت کے ترقیاتی منصوبوں کو قوم کے نام وقف، افتتاح اور ان کا سنگ بنیاد رکھیں گے۔ اس موقع پر وہ ایک عوامی جلسے سے بھی خطاب کریں گے۔
اس کے بعد وزیر اعظم گجرات روانہ ہوں گے، جہاں وہ شام تقریباً 4:30 بجے احمد آباد کے سانند میں سی جی سیمی آؤٹ سورسڈ سیمی کنڈکٹر اسمبلی اینڈ ٹیسٹ (او سی اے ٹی) سہولت کا افتتاح کریں گے اور اجتماع سے خطاب بھی کریں گے۔
ہوابازی کے شعبے، بالخصوص علاقائی رابطے کو فروغ دینے کے لیے وزیر اعظم جودھ پور میں ترمیم شدہ اُڑان اسکیم کا آغاز کریں گے۔ بیان کے مطابق، یہ اقدام شہری ہوا بازی کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت ثابت ہوگا اور "اُڑے دیش کا عام شہری" کے وژن کو مزید تقویت دے گا۔ آئندہ 10 برسوں کے دوران اس اسکیم کے لیے 28,840 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جس کا مقصد ہوابازی کی قیادت میں ترقی کے اگلے مرحلے کو تیز کرنا ہے۔
اس منصوبے کے تحت 12 ہزار کروڑ روپے سے زائد کی لاگت سے 100 غیر فعال فضائی پٹیوں کو ہوائی اڈوں میں تبدیل کیا جائے گا، جبکہ علاقائی ہوائی اڈوں کے ابتدائی آپریشنل اخراجات کے لیے 2,500 کروڑ روپے سے زیادہ مختص کیے گئے ہیں۔ دور دراز اور دشوار گزار علاقوں میں رابطے کو بہتر بنانے کے لیے 200 جدید ہیلی پیڈ بھی تعمیر کیے جائیں گے۔
اسکیم کے تحت فضائی کمپنیوں کو 10 ہزار کروڑ روپے سے زائد کی وائبلٹی گیپ فنڈنگ بھی فراہم کی جائے گی تاکہ علاقائی پروازوں کو فروغ دیا جا سکے۔ اس کے علاوہ "آتم نربھر ہندوستان" کے وژن کے تحت ایچ اے ایل دھرو اور ڈورنیئر جیسے مقامی طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کی خریداری بھی کی جائے گی۔
وزیر اعظم جودھ پور ہوائی اڈے کی نئی ٹرمینل عمارت کا بھی افتتاح کریں گے، جو 480 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کی گئی ہے۔ 23 ہزار مربع میٹر سے زائد رقبے پر پھیلی اس عمارت کو سالانہ 20 لاکھ مسافروں کی گنجائش کے ساتھ تیار کیا گیا ہے۔راجستھان کے شاہی ورثے سے متاثر اس ٹرمینل کی تعمیر میں روایتی طرز تعمیر جیسے محرابوں اور جھروکوں کو جدید ڈیزائن کے ساتھ ہم آہنگ کیا گیا ہے۔ توانائی کی بچت، پانی کے تحفظ اور ماحول دوست تعمیراتی طریقوں کو بھی اس منصوبے میں شامل کیا گیا ہے، تاکہ اسے 5-اسٹار گریہا درجہ بندی حاصل ہو سکے۔
بالوترا میں وزیر اعظم تقریباً 1.06 لاکھ کروڑ روپے مالیت کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح اور سنگ بنیاد رکھیں گے، جن کا تعلق پیٹروکیمیکل، شہری ٹرانسپورٹ، ریلوے، سڑکوں، قابل تجدید توانائی اور بجلی کی ترسیل سے ہے۔
وزیر اعظم بالوترا کے پچپدرا میں ہندوستان کے پہلے گرین فیلڈ انٹیگریٹڈ ریفائنری-کم-پیٹروکیمیکل کمپلیکس کو قوم کے نام وقف کریں گے، جو توانائی اور پیٹروکیمیکل شعبے میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔