نئی دہلی: وزارت خارجہ نے راجیہ سبھا کو بتایا ہے کہ سال 2026 میں اب تک وزیر اعظم نریندر مودی کے غیر ملکی دوروں پر 74.58 کروڑ روپے سے زیادہ خرچ ہو چکا ہے، جبکہ 2021 سے اب تک ان کے بیرون ملک دوروں پر مجموعی اخراجات 550 کروڑ روپے سے تجاوز کر گئے ہیں۔
وزیر مملکت برائے امور خارجہ پبتر مارگریٹا نے ایک تحریری جواب میں بتایا کہ رواں سال جن دوروں کے اخراجات کا حساب دستیاب ہے، ان میں مئی میں ہونے والے وزیر اعظم کے پانچ ملکی دورے کے دوران ناروے کے مرحلے پر سب سے زیادہ 17.46 کروڑ روپے خرچ ہوئے۔
وزارت کے مطابق وزیر اعظم کے غیر ملکی دوروں پر 2025 میں 180 کروڑ روپے سے زائد، 2024 میں 109 کروڑ روپے، 2023 میں 93 کروڑ روپے، 2022 میں 55 کروڑ روپے اور 2021 میں 36 کروڑ روپے خرچ ہوئے۔
وزارت نے یہ بھی واضح کیا کہ 2026 کے بعض دوروں کے اخراجات فی الحال عارضی ہیں اور بلوں کی مکمل ادائیگی کے بعد حتمی اعداد و شمار جاری کیے جائیں گے، جبکہ جون میں فرانس کے دورے کے اخراجات کی تفصیلات ابھی مرتب کی جا رہی ہیں۔
وزارت خارجہ کے مطابق وزیر اعظم کے اعلیٰ سطحی غیر ملکی دورے ہندستان کے دوطرفہ، علاقائی اور عالمی تعلقات کو مضبوط بنانے کا ایک اہم ذریعہ ہیں۔ ان دوروں کے ذریعے ٹیکنالوجی، تجارت و سرمایہ کاری، دفاع، توانائی اور مضبوط سپلائی چین جیسے شعبوں میں تعاون کو فروغ دیا جاتا ہے۔
وزارت نے راجیہ سبھا کو یہ بھی بتایا کہ جولائی 2021 سے اب تک وزیر اعظم نریندر مودی کے غیر ملکی دوروں کے دوران 316 مفاہمتی یادداشتوں (MoUs) اور مختلف معاہدوں پر دستخط کیے گئے ہیں۔
یہ معاہدے دفاع، تجارت و سرمایہ کاری، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، سیمی کنڈکٹرز، قابل تجدید توانائی، صحت، تعلیم، زراعت، خلائی تعاون، نقل و حرکت اور ہجرت، موسمیاتی اقدامات اور ثقافتی تبادلوں سمیت مختلف شعبوں پر مشتمل ہیں۔
وزارت کے مطابق ان معاہدوں کا مقصد ایشیا، یورپ، افریقہ، مشرق وسطیٰ، اوشیانا اور امریکہ کے ممالک کے ساتھ ہندستان کے دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنا اور مختلف شعبوں میں تعاون کو وسعت دینا ہے۔ اس کے علاوہ اپریل 2021 سے دسمبر 2025 کے دوران ہندستان کو 381.8 ارب امریکی ڈالر کی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) موصول ہوئی۔