نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے اتوار کو 1999 کی کارگل جنگ کے دوران بھارتی فوجیوں کی بہادری اور قربانیوں کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ کارگل اور اس کے آس پاس کے دشوار گزار پہاڑی علاقوں کے باوجود ملک کے بہادر جوانوں نے فتح کا پرچم لہرایا۔
’وکسِت وائبرنٹ ولیج پروگرام 2026‘ کے شرکا سے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے کہا کہ وہ گزشتہ 25 برس سے سرحد پر تعینات بہادر فوجیوں کے ساتھ دیوالی منانے کی روایت برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی موقع ملتا ہے، وہ سرحدی دیہات کا دورہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
وزیر اعظم نے کہا، ’’جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں، میں اپنے ملک کی حفاظت کرنے والے بہادر فوجیوں کے ساتھ سرحد پر دیوالی مناتا ہوں۔ گزشتہ 25 برس سے میں نے یہ روایت برقرار رکھی ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ اتفاق سے آج ہی کارگل وجے دیوس بھی ہے۔ انہوں نے ’وکسِت وائبرنٹ ولیج پروگرام‘ کے شرکا کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان میں سے بہت سے لوگوں نے کارگل کے آس پاس کے علاقوں کا دورہ کیا اور ان دشوار گزار حالات کو اپنی آنکھوں سے دیکھا، جہاں بھارتی فوج کے بہادر جوانوں نے فتح کا پرچم لہرایا تھا۔
کارگل جنگ 1999 میں لداخ کے بلند پہاڑی علاقوں میں بھارت اور پاکستان کے درمیان لڑی گئی تھی۔ جنگ میں کامیابی کے بعد پاکستانی دراندازوں کو لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے پار واپس دھکیل دیا گیا اور 26 جولائی 1999 کو ان علاقوں میں بھارتی انتظامیہ بحال ہوئی۔ اسی مناسبت سے ہر سال 26 جولائی کو ’کارگل وجے دیوس‘ منایا جاتا ہے۔
وزیر اعظم مودی نے ’میرا یوا بھارت‘ (MY Bharat) پلیٹ فارم کی سرگرمیوں کی بھی تعریف کی اور کہا کہ ملک کے کروڑوں نوجوان اس سے وابستہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’وکسِت بھارت‘ مکالمے اور ’وائبرنٹ ولیج پروگرام‘ سمیت مختلف پروگراموں میں ’میرا یوا بھارت‘ سے وابستہ نوجوانوں نے اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا ہے۔
’میرا یوا بھارت‘ کے تحت منعقد ہونے والے ’وکسِت وائبرنٹ ولیج پروگرام‘ کا مقصد وزیر اعظم کے اس وژن کو عملی شکل دینا ہے کہ ملک کے سرحدی دیہات کو ہندوستان کے ’’پہلے گاؤں‘‘ کے طور پر دیکھا جائے اور انہیں ’وکسِت بھارت‘ کے سفر میں فعال شراکت دار بنایا جائے۔
یہ پروگرام 4 جون سے 30 جون تک دو مرحلوں میں منعقد ہوا، جس کے تحت لداخ، ہماچل پردیش اور اتراکھنڈ کے 74 وائبرنٹ دیہات کا احاطہ کیا گیا۔ ملک کی تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی نمائندگی کرنے والے 400 سے زائد نوجوانوں کو ملک گیر آن لائن کوئز مقابلے کے ذریعے منتخب کیا گیا، جس میں تین لاکھ سے زیادہ نوجوانوں نے حصہ لیا۔
پروگرام کے دوران شرکا نے مقامی برادریوں کے ساتھ وقت گزارا اور صفائی مہم، سرکاری اسکیموں سے متعلق بیداری مہم، یوا سمیلن، ثقافتی تبادلے کے پروگرام، شجرکاری مہم اور ’منی ماڈل پنچایت‘ کی مشقوں سمیت مختلف سرگرمیوں میں حصہ لیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے مقامی دست کاروں سے ملاقاتیں کیں اور اہم تزویراتی اداروں کا دورہ بھی کیا۔
اس پروگرام کے ذریعے نوجوانوں کو ملک کے سرحدی علاقوں کے سماجی و اقتصادی حالات، ثقافتی ورثے اور ترقیاتی ترجیحات کو قریب سے سمجھنے کا موقع ملا۔ ساتھ ہی اس کا مقصد مقامی برادریوں کی شمولیت، قومی یکجہتی اور سرحدی دیہات کی تزویراتی اہمیت کے بارے میں نوجوانوں میں گہری سمجھ پیدا کرنا بھی تھا۔