نئی دہلی
ملک بھر میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کر دیا گیا ہے۔ گزشتہ 10 دنوں کے دوران یہ تیسری مرتبہ ہے جب ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔ مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتوں نے عوام کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عالمی توانائی منڈی پہلے ہی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔
دارالحکومت نئی دہلی میں پٹرول کی قیمت میں 87 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد پٹرول 99.51 روپے فی لیٹر تک پہنچ گیا ہے۔ اسی طرح ڈیزل 91 پیسے مہنگا ہو کر 92.49 روپے فی لیٹر فروخت ہو رہا ہے۔
کولکتہ میں پٹرول کی قیمت میں سب سے زیادہ 94 پیسے فی لیٹر اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ وہاں پٹرول اب 110.64 روپے فی لیٹر فروخت ہو رہا ہے۔ ڈیزل کی قیمت میں بھی 95 پیسے کا اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد اس کی قیمت 97.02 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ممبئی میں پٹرول 90 پیسے مہنگا ہو کر 108.49 روپے فی لیٹر تک پہنچ گیا ہے، جبکہ ڈیزل 94 پیسے اضافے کے بعد 95.02 روپے فی لیٹر فروخت ہو رہا ہے۔
چنئی میں پٹرول کی قیمت میں 82 پیسے کا اضافہ ہوا ہے اور یہ 105.31 روپے فی لیٹر تک پہنچ گیا ہے۔ ڈیزل بھی 87 پیسے مہنگا ہو کر 96.98 روپے فی لیٹر فروخت ہو رہا ہے۔اس سے قبل رواں ہفتے منگل کے روز بھی پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا تھا۔ اس وقت نئی دہلی میں پٹرول 97.77 روپے سے بڑھ کر 98.64 روپے فی لیٹر ہو گیا تھا، جبکہ ڈیزل 90.67 روپے سے بڑھ کر 91.58 روپے فی لیٹر تک پہنچ گیا تھا۔
جے پور میں بھی پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔ وہاں پٹرول 108.91 روپے فی لیٹر اور ڈیزل 94.15 روپے فی لیٹر تک پہنچ گیا تھا۔حکومت نے 15 مئی کو ملک بھر میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 3 روپے فی لیٹر کا اضافہ کیا تھا۔ اس کے بعد سے قیمتوں میں مسلسل رد و بدل جاری ہے۔
ماہرین کے مطابق مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی اور آبنائے ہرمز کے اطراف بڑھتے ہوئے بحران کا براہِ راست اثر عالمی تیل منڈی پر پڑ رہا ہے۔ اسی وجہ سے خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار ہے۔ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی نے توانائی کی عالمی منڈی کو غیر مستحکم کر دیا ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین سمندری تجارتی راستوں میں شمار ہوتی ہے اور یہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ کا براہِ راست اثر تیل کی عالمی سپلائی پر پڑتا ہے۔
ہندوستانی حکومت نے تاہم کہا ہے کہ ملک میں ایندھن کی کوئی کمی نہیں ہے اور توانائی کے وافر ذخائر موجود ہیں۔ اس کے باوجود مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتوں نے عام صارفین، ٹرانسپورٹ کے شعبے اور تاجروں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔
ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات اب روزمرہ استعمال کی اشیاء اور نقل و حمل کے اخراجات پر بھی نظر آنے لگے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آنے والے دنوں میں عالمی حالات میں بہتری نہ آئی تو پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید اضافے کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔