نئی دہلی: سنٹرل بیورو آف انویسٹیگیشن (سی بی آئی) نے مبینہ نیٹ-یو جی 2026 پرچہ لیک معاملے میں مہاراشٹر کے لاتور سے ایک ڈاکٹر اور پونے کے ایک کوچنگ انسٹی ٹیوٹ کے فزکس استاد کو گرفتار کیا ہے۔ حکام نے بدھ کے روز یہ جانکاری دی۔ ایجنسی نے منوج شیروڑے کو گرفتار کیا ہے، جن پر الزام ہے کہ انہوں نے نیٹ پرچہ تیار کرنے والے پی وی کلکرنی سے تین طلبہ کو کیمسٹری کے سوالات دلوانے میں اہم کردار ادا کیا۔
حکام کے مطابق، ان تین طلبہ میں ایک طالب علم شیوراج رگھوناتھ موٹے گاؤں کر کے بیٹے بھی شامل تھے، جو لاتور میں “رینوکائی کیمسٹری کلاسز” چلاتے ہیں۔ موٹے گاؤں کر کو اس معاملے میں پہلے ہی گرفتار کیا جا چکا ہے۔ سی بی آئی نے تیجس ہرشاد کمار شاہ کو بھی گرفتار کیا ہے، جو پونے کی “ڈاکٹر ابھنگ پربھو میڈیکل اکیڈمی” میں فزکس کے استاد ہیں۔
تفتیشی حکام کا الزام ہے کہ شاہ کو ملزمہ منیشا حوالدار سے فزکس کے لیک شدہ سوالات موصول ہوئے تھے۔ تازہ گرفتاریوں کے بعد اس معاملے میں گرفتار ملزمان کی تعداد بڑھ کر 13 ہو گئی ہے۔ سی بی آئی کے ترجمان نے کہا کہ ایجنسی لیک کے پورے سازشی نیٹ ورک کی شناخت کے لیے تفتیش جاری رکھے ہوئے ہے۔ ترجمان نے کہا، “اس معاملے میں سلسلہ اور سازش کو بے نقاب کرنے کے لیے جانچ جاری ہے۔
سی بی آئی اب تک 49 مقامات پر چھاپے مار چکی ہے اور کئی اہم دستاویزات، لیپ ٹاپ اور موبائل فون ضبط کیے گئے ہیں۔” یہ تنازع اُس وقت سامنے آیا جب نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) نے 3 مئی کو منعقد ہونے والا نیٹ-یو جی امتحان پرچہ لیک کے الزامات کے بعد منسوخ کر دیا۔ دوبارہ امتحان 21 جون کو منعقد کیا جائے گا۔ سی بی آئی نے 12 مئی کو مرکزی وزارتِ تعلیم کے محکمۂ اعلیٰ تعلیم کی شکایت کی بنیاد پر مقدمہ درج کیا تھا۔
ایجنسی کے مطابق، فوری طور پر خصوصی تفتیشی ٹیمیں تشکیل دی گئیں اور کئی ریاستوں میں چھاپے مارے گئے۔ اب تک دہلی، جے پور، گروگرام، ناسک، پونے، لاتور اور اہلیہ نگر سے گرفتاریاں کی جا چکی ہیں۔ ایجنسی نے کہا کہ تفتیش میں پرچہ لیک کے اصل ذریعہ اور ان درمیانی افراد کی نشاندہی ہوئی ہے، جنہوں نے خصوصی کوچنگ سیشنز کے دوران لیک شدہ سوالات فراہم کرنے کے بدلے طلبہ سے بڑی رقم وصول کی۔ نیٹ-یو جی 2026 امتحان ہندوستان کے 551 شہروں اور بیرونِ ملک 14 مراکز پر منعقد کیا گیا تھا، جس کے لیے تقریباً 23 لاکھ امیدواروں نے رجسٹریشن کرایا تھا۔