اے آئی سمٹ؛ سیکورٹی کے لیے 4,000کیمرے، 15,000 اہلکار تعینات

Story by  اے این آئی | Posted by  Aamnah Farooque | Date 17-02-2026
اے آئی سمٹ؛ سیکورٹی کے لیے 4,000کیمرے، 15,000 اہلکار تعینات
اے آئی سمٹ؛ سیکورٹی کے لیے 4,000کیمرے، 15,000 اہلکار تعینات

 



نئی دہلی
جاری ہندوستان اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 کے دوران مشتبہ شرپسند عناصر پر خاموش نگرانی برقرار رکھنے کے لیے 4,000 سے زائد اے آئی سے لیس کیمرے اور 15,000 سے زیادہ سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ ایک سینئر دہلی پولیس افسر نے منگل کو یہ جانکاری دی۔
یہ سمٹ 16 فروری سے 20 فروری تک بھارت منڈپم میں منعقد ہو رہی ہے، جس میں دنیا کے کئی رہنماؤں، بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے نمائندوں اور تقریباً 45 ممالک سے آئے مندوبین شرکت کر رہے ہیں۔دہلی پولیس کا اسپیشل سیل کسی بھی ایسی سرگرمی پر نظر رکھے ہوئے ہے تاکہ کوئی بھی ملک دشمن عنصر اس اہم اجتماع کے دوران امن و امان کو نقصان نہ پہنچا سکے یا ملک کی شبیہ متاثر نہ ہو۔
افسر نے  بتایا كہ ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ کوئی بھی ملک دشمن عنصر قانون و انتظام میں خلل ڈالنے کی کوشش نہ کرے، خاص طور پر اس وقت جب اعلیٰ سطحی معزز شخصیات قومی دارالحکومت کا دورہ کر رہی ہیں۔ یہاں تک کہ کسی قسم کی دیوار نویسی یا پوسٹرز کے ذریعے بھی امن میں خلل نہیں پڑنے دیا جائے گا۔ سکیورٹی انتظامات 2023 میں منعقد ہونے والی جی-20 سمٹ کے دوران کیے گئے انتظامات کے مساوی ہیں۔ تقریب کے مقام پر 500 سے زائد سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے گئے ہیں۔
پولیس کے مطابق، نگرانی کرنے والی ٹیمیں گزشتہ تقریباً ایک ماہ سے مشتبہ عناصر اور بار بار احتجاج کرنے والوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ان افراد کی تصاویر اے آئی سے لیس فیشل ریکگنیشن سسٹم  کیمروں میں فیڈ کی گئی ہیں، جو حساس مقامات پر ان کی موجودگی کی صورت میں فوری الرٹ جاری کرتے ہیں۔
شہر بھر میں خصوصی طور پر اس اہم اجتماع کے لیے کیمروں کی تعیناتی کے علاوہ، تقریب کے مقام پر کم از کم چھ اینٹی ڈرون سسٹمز اور چار ایئر ڈیفنس گنز بھی نصب کی گئی ہیں۔ پولیس کے مطابق، بھارت منڈپم کے علاقے کو 10 سکیورٹی زونز میں تقسیم کیا گیا ہے، جن میں سے ہر ایک کی نگرانی ڈی سی پی رینک کے افسر کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ، سوئٹ کمانڈوز، بم ڈسپوزل اسکواڈ اور ڈاگ اسکواڈز کو بھی ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔
دہلی پولیس، اسپیشل سیل اور این ایس جی، سی آئی ایس ایف، بی ایس ایف اور آئی ٹی بی پی جیسی نیم فوجی فورسز سمیت 15,000 سے زیادہ سکیورٹی اہلکار پورے شہر میں تعینات کیے گئے ہیں۔
مرکزی دہلی کے ایک درجن سے زائد فائیو اسٹار ہوٹلوں میں بھی سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔ ہر ہوٹل میں پولیس کی خصوصی تعیناتی اور قریبی پولیس اسٹیشن سے منسلک ایک کنٹرول روم قائم کیا گیا ہے۔ دہلی پولیس پڑوسی شہروں گڑگاؤں اور نوئیڈا کی فورسز کے ساتھ بھی تال میل کر رہی ہے تاکہ مہمانوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جا سکے۔
پولیس کے مطابق، جدید ٹیکنالوجی پر مبنی سکیورٹی نظام بھی استعمال میں ہیں، جن میں مندوبین کے لیے کیو آر کوڈ پر مبنی انٹری پاس اور کمانڈ، کنٹرول، کمیونیکیشن اور انٹیلی جنس (C-4I) سسٹم کے ذریعے ریئل ٹائم نگرانی شامل ہے۔
اہلکاروں کو اے آئی سے لیس اسمارٹ چشمے فراہم کیے گئے ہیں، جن میں تھرمل امیجنگ سسٹم موجود ہے، تاکہ بھیڑ بھاڑ والے علاقوں میں مشتبہ افراد کی شناخت میں مدد مل سکے۔
پولیس نے مزید بتایا کہ غیر ملکی مندوبین کے ممکنہ دوروں کے پیش نظر اہم سیاحتی مقامات، جن میں لال قلعہ، چاندنی چوک، کناٹ پلیس، قطب مینار اور ہمایوں کا مقبرہ شامل ہیں، وہاں بھی سخت سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔