نئی دہلی: نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) نے سپریم کورٹ کو بتایا ہے کہ نیٹ-یو جی 2026 پرچہ لیک تنازع اور امتحان کی منسوخی کے بعد ادارے نے ڈھانچہ جاتی اور سکیورٹی سے متعلق بڑے پیمانے پر اصلاحات نافذ کی ہیں۔ یہ وضاحت فیڈریشن آف آل انڈیا میڈیکل ایسوسی ایشن (FAIMA) اور یونائیٹڈ ڈاکٹرس فرنٹ (UDF) کی جانب سے دائر درخواستوں کے جواب میں پیش کی گئی، جن میں نیٹ-یو جی 2026 کے انعقاد میں مبینہ بے ضابطگیوں کے پیش نظر امتحانی ادارے میں جامع اصلاحات کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
سپریم کورٹ میں داخل حلف نامے میں این ٹی اے نے کہا کہ ہائی پاورڈ اسٹیئرنگ کمیٹی (HPSC) نے 17 اپریل 2026 کو ہونے والے اجلاس میں نیٹ-یو جی 2026 کی تیاریوں کا جائزہ لیا اور امتحانی عمل کے ہر مرحلے کے لیے متعدد حفاظتی اقدامات تجویز کیے۔
ایجنسی کے مطابق، سفارشات میں سی سی ٹی وی کی لازمی جانچ اور کم از کم 90 دن تک فوٹیج محفوظ رکھنا، امتحانی مراکز پر موک ڈرلز، خراب موسم سے نمٹنے کے انتظامات، پاور بیک اپ سسٹم کی جانچ، ہنگامی طبی سہولیات اور امتحان سے قبل مراکز کا تفصیلی معائنہ شامل تھا۔
کمیٹی نے یہ بھی مشورہ دیا کہ امتحان کے بعد سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک تجزیہ کیا جائے تاکہ مشتبہ سرگرمیوں یا ایسی بے ضابطگیوں کی نشاندہی ہو سکے جو امتحان کے دوران فوری طور پر سامنے نہ آئیں۔ این ٹی اے نے عدالت کو مزید بتایا کہ نیٹ-یو جی 2026 مکمل ہونے کے بعد اسٹیئرنگ کمیٹی دوبارہ اجلاس کرے گی تاکہ وزارتِ صحت و خاندانی بہبود سے مشاورت کے بعد یہ فیصلہ کیا جا سکے کہ آئندہ امتحانات روایتی قلم و کاغذ کے طریقے سے لیے جائیں یا کمپیوٹر بیسڈ ٹیسٹ (CBT) نظام اپنایا جائے۔ حلف نامے میں کہا گیا کہ ہائی لیول کمیٹی آف ایکسپرٹس (HLCE) کی کئی سفارشات پر پہلے ہی عمل ہو چکا ہے یا ان پر تیزی سے کام جاری ہے۔
تنظیمی اصلاحات کے تحت این ٹی اے نے بتایا کہ 16 نئے اعلیٰ سطحی عہدے قائم کیے گئے ہیں، جن میں ڈائریکٹر اور جوائنٹ ڈائریکٹر سطح کے عہدے شامل ہیں۔ ٹیکنالوجی آپریشنز اور امتحانی سکیورٹی کی نگرانی کے لیے جوائنٹ سکریٹری رینک کے دو افسران کو ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل مقرر کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ مارچ 2026 میں سکریٹری سطح کے ایک افسر کو این ٹی اے کا ڈائریکٹر جنرل مقرر کیا گیا۔ ایجنسی نے بتایا کہ امتحانی نظام کو مضبوط بنانے اور سکیورٹی میکانزم بہتر کرنے کے لیے آئی آئی ٹیز، یو جی سی، سی بی ایس ای، کیندریہ ودیالیہ سنگٹھن اور اندرا گاندھی نیشنل اوپن یونیورسٹی (IGNOU) جیسے اداروں کے ماہرین کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
رابطہ کاری اور نگرانی کے حوالے سے این ٹی اے نے عدالت کو بتایا کہ ملک بھر میں اسٹیٹ لیول کوآرڈینیشن کمیٹیاں (SLCCs) اور ڈسٹرکٹ لیول کوآرڈینیشن کمیٹیاں (DLCCs) قائم کی گئی ہیں تاکہ امتحانات کو محفوظ اور منظم طریقے سے منعقد کیا جا سکے۔ حلف نامے کے مطابق، 3 مئی کو نیٹ-یو جی 2026 کے انعقاد تک 18 ایس ایل سی سیز اور 621 ڈی ایل سی سیز فعال تھیں۔ ان کمیٹیوں میں انتظامیہ، پولیس، خفیہ ایجنسیوں، نیشنل انفارمیٹکس سینٹر (NIC) اور این ٹی اے کے افسران شامل ہیں، جن کا مقصد امتحانات کے دوران نگرانی کو مضبوط بنانا اور بہتر تال میل قائم کرنا ہے۔