نئی دہلی
دہلی ہائی کورٹ نے جائیداد کے ایک تنازع سے متعلق اپیلی عدالت کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی دارالحکومت کے معروف ایمبیسیڈر ہوٹل کی مالک کمپنی سر شوبھا سنگھ اینڈ سنز پرائیویٹ لمیٹڈ کی درخواست پر مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔اس معاملے میں اپیلی عدالت نے مرکزی حکومت کے حق میں فیصلہ سنایا تھا۔
جسٹس تیجس کریا نے بدھ کے روز سماعت کے دوران کمپنی کی عبوری راحت سے متعلق درخواست پر مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کیا اور ہدایت دی کہ معاملے کو 23 جولائی کو متعلقہ روسٹر بنچ کے سامنے سماعت کے لیے پیش کیا جائے۔
یہ تنازع سجان سنگھ پارک کے شمالی بلاک سے متعلق ہے، جس میں مشہور ایمبیسیڈر ہوٹل بھی شامل ہے۔مرکزی حکومت نے لیز کی شرائط کی خلاف ورزی کا حوالہ دیتے ہوئے 11 جون کو ہوٹل انتظامیہ کو بے دخلی کا نوٹس جاری کیا تھا۔
کمپنی کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ 9 جون کو ضلعی جج (اپیلی عدالت) نے 2009 میں سینئر سول جج کے اس فیصلے کو منسوخ کر دیا تھا، جس میں جائیداد سے متعلق حقوق کی قانونی حیثیت کو برقرار رکھا گیا تھا۔
درخواست میں ہوٹل کو جاری کیے گئے بے دخلی کے نوٹس پر فوری روک لگانے کی استدعا کی گئی ہے۔ اس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ پہلی اپیلی عدالت نے ایسے حکم کو کالعدم قرار دیا جو کئی دہائیوں سے نافذ العمل تھا۔
درخواست گزار کے مطابق عدالت نے 1960 سے نافذ حکمِ امتناعی (اسٹے آرڈر) بھی ختم کر دیا اور اس قبضے پر سوال اٹھایا جو 1943 سے مسلسل برقرار ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے زمین عطا کی، تقریباً ایک صدی تک اس سے فائدہ اٹھایا، پھر مستقل لیز جاری کرنے کے اپنے وعدے کو پورا نہیں کیا، اور بعد ازاں ایک حکم کے ذریعے فائدہ اٹھانے والے کے قبضے کو ختم کرنے کی کوشش کی۔ پچاس برس تک جاری رہنے والی عدالتی کارروائی کے بعد ایک سول عدالت نے حکومت کو اپنے وعدے کی پابندی کرنے کا حکم دیا تھا۔
درخواست میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ: پہلی اپیلی عدالت نے شواہد کی بنیاد پر نہیں بلکہ ایک عدالتی فیصلے کی غلط تشریح کرتے ہوئے سابقہ حکم کو تبدیل کر دیا۔