نئی دہلی
حکومت نے جمعرات کو ان خبروں کو مسترد کر دیا جن میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ اسمبلی انتخابات کے بعد پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 25 سے 28 روپے فی لیٹر تک اضافہ کیا جائے گا، اور واضح کیا کہ اس طرح کی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے۔پیٹرولیم و قدرتی گیس کی وزارت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ کچھ خبروں میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کی بات کی جا رہی ہے، یہ واضح کیا جاتا ہے کہ حکومت کے پاس اس طرح کی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے۔
یہ وضاحت کوٹک انسٹی ٹیوشنل ایکویٹیز کی ایک رپورٹ کے بعد سامنے آئی، جس میں اشارہ دیا گیا تھا کہ مغربی بنگال جیسے ریاستوں میں 29 اپریل کو ووٹنگ مکمل ہونے کے بعد پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں تیز اضافہ ہو سکتا ہے۔ رپورٹ میں خام تیل کی قیمت تقریباً 120 ڈالر فی بیرل رہنے کی بنیاد پر 25 سے 28 روپے فی لیٹر اضافے کا اندازہ لگایا گیا تھا۔وزارت نے کہا کہ اس طرح کی خبریں شہریوں میں خوف اور گھبراہٹ پیدا کرنے کے لیے پھیلائی جا رہی ہیں اور یہ گمراہ کن اور بے بنیاد ہیں۔
ایکس پر جاری بیان میں مزید کہا گیا کہ درحقیقت، ہندوستان ہی ایک ایسا ملک ہے جہاں گزشتہ چار برسوں میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ نہیں ہوا ہے۔ ہندوستانی حکومت اور سرکاری تیل کمپنیوں نے بین الاقوامی قیمتوں میں تیزی کے اثرات سے شہریوں کو بچانے کے لیے مسلسل اقدامات کیے ہیں۔
بین الاقوامی سطح پر تیل کی قیمتوں میں 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے اور اس کی جوابی کارروائی کے بعد تیزی سے اضافہ ہوا۔ اس کے نتیجے میں دنیا کے اہم ترین توانائی راستوں میں سے ایک، آبنائے ہرمز، جو خلیج فارس کو عالمی منڈیوں سے جوڑتا ہے اور عالمی تیل تجارت کا تقریباً پانچواں حصہ سنبھالتا ہے، مؤثر طور پر متاثر ہوا۔
ایران سے متعلق کشیدگی کے بعد تیل کی قیمتیں تقریباً 70 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 119 ڈالر تک پہنچ گئی تھیں، تاہم بعد میں کچھ کمی بھی دیکھنے میں آئی۔ نئی کشیدگی کے بعد برینٹ کروڈ کی قیمت 103 سے 106 ڈالر فی بیرل کے درمیان برقرار ہے۔خام تیل کی قیمتوں میں 50 فیصد سے زیادہ اضافے کے باوجود ہندوستان میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں جوں کی توں برقرار رہی ہیں۔
قومی دارالحکومت میں اس وقت پٹرول کی قیمت 94.77 روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت 87.67 روپے فی لیٹر ہے۔