سابق قائم مقام چیف جسٹس کے خلاف بدعنوانی کی شکایت کا علم نہیں:سپریم کورٹ انتظامیہ

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 14-01-2026
سابق قائم مقام چیف جسٹس کے خلاف بدعنوانی کی شکایت کا علم نہیں:سپریم کورٹ انتظامیہ
سابق قائم مقام چیف جسٹس کے خلاف بدعنوانی کی شکایت کا علم نہیں:سپریم کورٹ انتظامیہ

 



نئی دہلی: سپریم کورٹ انتظامیہ نے دہلی ہائی کورٹ کو آگاہ کیا کہ مدراس ہائی کورٹ کے سابق قائم مقام چیف جسٹس کے خلاف نہ تو بدعنوانی یا بدسلوکی سے متعلق کسی شکایت کا علم ہے اور نہ ہی ایسی کوئی شکایت اسے یا چیف جسٹس آف انڈیا (CJI) کو موصول ہوئی ہے۔

سپریم کورٹ انتظامیہ کی جانب سے یہ بیان جسٹس پوروشیندر کمار کورَو کے روبرو دیا گیا، جو حقِ اطلاعات (RTI) قانون کے تحت مطلوبہ معلومات فراہم نہ کیے جانے کے خلاف دائر ایک عرضی کی سماعت کر رہے تھے۔ جسٹس کورَو نے سپریم کورٹ انتظامیہ کی طرف سے پیش وکیل سے صرف یہ سوال کیا کہ آیا سابق جج کے خلاف کوئی شکایت موصول ہوئی ہے یا نہیں۔

وکیل نے جواب دیا، ہمارا مؤقف یہ ہے کہ جس فارمیٹ میں معلومات طلب کی گئی ہیں، اس صورت میں وہ معلومات ہمارے پاس محفوظ نہیں کی جاتیں۔ ہم اس نوعیت کی معلومات سپریم کورٹ کے رجسٹر میں برقرار نہیں رکھتے۔ عدالت نے مشاہدہ کیا کہ “کوئی واضح جواب فراہم نہیں کیا گیا”، اس لیے فریقین کو ہدایت دی گئی کہ وہ اپنے تحریری جوابات داخل کریں، اور معاملے کی سماعت یکم اپریل کے لیے مقرر کر دی گئی۔

یہ معلومات سپریم کورٹ کے مرکزی پبلک انفارمیشن آفیسر (CPIO) کے سامنے حقِ اطلاعات قانون کے تحت درخواست گزار سوربھ داس نے طلب کی تھیں۔ انہوں نے یہ جاننا چاہا تھا کہ کیا چیف جسٹس آف انڈیا، کالجیم اور/یا سپریم کورٹ کو مدراس ہائی کورٹ کے سابق قائم مقام چیف جسٹس ٹی۔ راجا کے دورِ کار میں کسی بھی وقت بدعنوانی اور/یا غیر مناسب طرزِ عمل سے متعلق کسی خط، عرضداشت یا کسی اور ذریعے سے کوئی شکایت موصول ہوئی ہے؟

اپنی آر ٹی آئی درخواست میں داس نے ایسی شکایات کی مجموعی تعداد اور ان پر کی گئی کارروائی کی تفصیلات بھی طلب کی تھیں۔ ان کی عرضی میں کہا گیا ہے کہ سی پی آئی او کے جواب میں بتایا گیا تھا کہ معلومات اس طریقے سے محفوظ نہیں کی جاتیں جیسا کہ درخواست میں مانگا گیا ہے۔ عرضی میں یہ دلیل دی گئی ہے کہ معلومات فراہم کرنے سے انکار غلط تھا، کیونکہ آر ٹی آئی درخواست میں صرف “ہاں یا نہیں” میں جواب طلب کیا گیا تھا، جس کے لیے کسی مخصوص فارمیٹ میں معلومات کے اندراج یا تحفظ کی ضرورت نہیں تھی۔