نئی دہلی
پٹیالہ ہاؤس کورٹ میں قائم خصوصی این آئی اے عدالت نے جمعرات کو دہلی کے لال قلعہ کار بم دھماکہ کیس کے ملزمان کی عدالتی تحویل میں 6 جولائی تک توسیع کر دی۔ یہ مقدمہ نومبر 2025 میں لال قلعہ کے قریب ہونے والے کار بم دھماکے سے متعلق ہے۔
قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے ملزمان عامر رشید میر، جاسر بلال وانی، ڈاکٹر مزمل شکیل، ڈاکٹر عادل احمد راہدر، ڈاکٹر شاہین سعید، مفتی عرفان احمد واگے، صویب، ڈاکٹر بلال نصیر ملا اور یاسر احمد ڈار کو عدالت میں پیش کیا۔
خصوصی جج (این آئی اے) پرشانت شرما نے سابقہ عدالتی ریمانڈ کی مدت ختم ہونے کے بعد پیش کیے گئے تمام ملزمان کی عدالتی تحویل میں 6 جولائی تک توسیع کا حکم دیا۔اس سے قبل 14 مئی کو این آئی اے نے اس مقدمے میں پہلی چارج شیٹ داخل کی تھی، جس پر 4 جون کو سماعت مقرر تھی۔
قومی تحقیقاتی ایجنسی نے 10 نومبر 2025 کو دہلی کے لال قلعہ کے قریب ہونے والے دھماکے کے سلسلے میں 10 ملزمان کے خلاف تقریباً 7,500 صفحات پر مشتمل چارج شیٹ عدالت میں جمع کرائی ہے۔این آئی اے کے مطابق، گاڑی میں نصب طاقتور دیسی بم (وی بی آئی ای ڈی) کے دھماکے میں 11 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے، جبکہ اطراف کی املاک کو بھی شدید نقصان پہنچا تھا۔
ایجنسی نے اس مقدمے میں غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (یو اے پی اے)، ہندوستانی نیا ئی سنہتا، ایکسپلوسیو سبسٹینسز ایکٹ، آرمز ایکٹ اور عوامی املاک کو نقصان سے تحفظ کے قانون کی مختلف دفعات عائد کی ہیں۔چارج شیٹ میں نامزد ملزمان میں مبینہ مرکزی سازش کار ڈاکٹر عمر النبی بھی شامل ہیں، تاہم ان کی موت کے باعث ان کے خلاف کارروائی ختم کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ دیگر ملزمان میں عامر رشید میر، جاسر بلال وانی، ڈاکٹر مزمل شکیل، ڈاکٹر عادل احمد راہدر، ڈاکٹر شاہین سعید، مفتی عرفان احمد واگے، صویب، ڈاکٹر بلال نصیر ملا اور یاسر احمد ڈار شامل ہیں۔
این آئی اے کا الزام ہے کہ تمام ملزمان انصار غزوۃ الہند سے وابستہ تھے، جو القاعدہ برصغیر (اے کیو آئی ایس) کی ایک شاخ ہے۔ وزارتِ داخلہ نے 2018 میں اس تنظیم کو دہشت گرد قرار دیا تھا۔
ایجنسی کے مطابق چارج شیٹ جموں و کشمیر، ہریانہ، اتر پردیش، مہاراشٹر، گجرات اور دہلی-این سی آر میں کی گئی وسیع تحقیقات پر مبنی ہے۔ استغاثہ کی شکایت میں 588 زبانی گواہیاں، 395 سے زائد دستاویزات اور 200 سے زیادہ ضبط شدہ شواہد شامل ہیں۔
این آئی اے نے ایک وسیع تر "جہادی سازش" کا الزام بھی عائد کیا ہے، جس میں بعض مبینہ طور پر شدت پسند نظریات سے متاثر افراد، بشمول طبی شعبے سے وابستہ لوگ، شامل تھے۔ تفتیش کاروں کا دعویٰ ہے کہ ملزمان نے 2022 میں سری نگر میں ہونے والی ایک خفیہ میٹنگ کے دوران تنظیم کو دوبارہ منظم کرتے ہوئے "انصار غزوۃ الہند انٹرم" کے نام سے سرگرم کیا تھا
ایجنسی کے مطابق ملزمان نے مبینہ طور پر "آپریشن ہیونلی ہند" کے نام سے ایک مہم شروع کی، جس کا مقصد جمہوری طور پر منتخب حکومت کا تختہ الٹنا اور شریعت کا نظام نافذ کرنا تھا۔این آئی اے کا الزام ہے کہ ملزمان نے تنظیم کے لیے نئے افراد بھرتی کیے، شدت پسند نظریات کو فروغ دیا، اسلحہ اور گولہ بارود جمع کیا اور عام مارکیٹ میں دستیاب کیمیکلز سے دھماکہ خیز مواد تیار کیا۔ ایجنسی کے مطابق دھماکے میں استعمال ہونے والا مادہ ٹرائی ایسیٹون ٹرائی پیرو آکسائیڈ (ٹی اے ٹی پی) تھا، جسے متعدد تجربات کے بعد تیار کیا گیا تھا۔
تحقیقات میں مبینہ طور پر یہ بھی سامنے آیا کہ ملزمان نے غیر قانونی طور پر ممنوعہ ہتھیار، جن میں اے کے-47 رائفلیں، کرنکوف رائفلیں اور دیسی پستول شامل ہیں، حاصل کیے تھے۔ اس کے علاوہ راکٹ اور ڈرون کے ذریعے نصب کیے جانے والے بموں کے تجربات بھی کیے گئے، جن کا ہدف سکیورٹی تنصیبات تھیں۔
این آئی اے نے بتایا کہ سائنسی اور فرانزک تجزیوں، بشمول ڈی این اے فنگر پرنٹنگ اور آواز کے تجزیے، کی مدد سے ہلاک شدہ ملزم ڈاکٹر عمر النبی کی شناخت کی تصدیق کی گئی۔