نئی دہلی: قومی تحقیقاتی ایجنسی این آئی اے نے بہار ایس ٹی ایف کے ساتھ مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے اے کے 47 رائفل اور زندہ کارتوس کی برآمدگی سے متعلق ایک معاملے میں مفرور ملزم کرم اللہ کو سارن سے گرفتار کرلیا ہے۔ ایجنسی نے اتوار کو یہ اطلاع دی۔این آئی اے کے مطابق کرم اللہ ولد عبدالغفار سارن ضلع کے چیتن پرسا کے وارڈ نمبر 02 کا رہائشی ہے اور اسے ہفتے کے روز گرفتار کیا گیا۔
مرکزی ایجنسی کے مطابق کرم اللہ نے دیگر شریک ملزمان کے ساتھ مل کر ناگالینڈ سے ممنوعہ بور کے جدید ہتھیار بہار اسمگل کرنے کی سازش کی تھی۔ اس کا مقصد عوامی امن و سلامتی میں خلل ڈالنا اور قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالنا تھا۔یہ معاملہ 7 مئی 2024 کو اس وقت درج کیا گیا تھا جب فکولی تھانے کی پولیس نے مظفرپور کے مرغٹیا پل سے ایک لینس لگی اے کے 47 رائفل اور زندہ کارتوس برآمد کیے تھے اور 4 ملزمان کو گرفتار کیا تھا۔
تحقیقات مکمل ہونے کے بعد این آئی اے نے 8 مئی 2025 کو وکاش کمار ستیَم کمار دیومنی رائے اور احمد انصاری کے خلاف پہلی ضمنی فرد جرم داخل کی تھی۔ ان پر تعزیرات ہند کی دفعہ 120 بی اور غیر قانونی سرگرمیاں روک تھام قانون کی دفعات 13 اور 18 کے تحت الزامات عائد کیے گئے تھے۔ایجنسی نے 20 فروری 2026 کو ملزم منظور خان کے خلاف دوسری ضمنی فرد جرم داخل کی۔ اس میں تعزیرات ہند کی دفعہ 120 بی اسلحہ قانون کی دفعات 25(1AA) 26 اور 35 اور غیر قانونی سرگرمیاں روک تھام قانون کی دفعات 13 اور 18 شامل ہیں۔
تیسری ضمنی فرد جرم 15 اپریل 2026 کو کندن کمار عرف کندن بھگت کے خلاف داخل کی گئی تھی۔ اس پر بھی تعزیرات ہند کی دفعہ 120 بی اسلحہ قانون کی دفعات 25(1AA) 26 اور 35 اور غیر قانونی سرگرمیاں روک تھام قانون کی دفعات 13 اور 18 کے تحت الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
این آئی اے نے بتایا کہ جگت نارائن ترپاٹھی کے بیٹے اور مظفرپور کے صاحب گنج کے رہائشی ملزم بھیرو ترپاٹھی کو بھی حال ہی میں 19 اگست کو مظفرپور سے گرفتار کیا گیا تھا۔ایجنسی نے کہا کہ معاملے میں مزید تحقیقات جاری ہیں۔