نئی دہلی: نیشنل گرین ٹریبونل (این جی ٹی) نے دہلی کے ایک تالاب کے گرد مستقل کنکریٹ کی دیوار تعمیر کرنے کے بجائے بایو فینسنگ اور شجرکاری کے امکانات پر غور کرنے کی ہدایت دی ہے۔ ٹریبونل نے کہا کہ کنکریٹ کی دیوار بارش کے پانی کے قدرتی بہاؤ کو تالاب تک پہنچنے سے روک سکتی ہے، جس سے آبی ذخیرے کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔
این جی ٹی نے متعلقہ حکام کو یہ بھی ہدایت دی کہ تالاب کی زمین پر موجود تمام تجاوزات کی نشاندہی کی جائے اور قانون کے مطابق انہیں ہٹانے کی کارروائی شروع کی جائے، تاہم مناسب قانونی طریقۂ کار اختیار کیے بغیر کسی بھی تعمیر کو منہدم نہ کیا جائے۔
جسٹس ارون کمار تیاگی اور ماہر رکن اے سنتھل ویل پر مشتمل بنچ نے یہ ہدایات سریش چند کی جانب سے دائر عمل درآمد کی درخواست پر سماعت کے دوران جاری کیں، جو تالاب سے متعلق ایک سابقہ ماحولیاتی مقدمے سے وابستہ ہے۔ ٹریبونل نے دہلی حکومت کے محکمہ آبپاشی و سیلاب کنٹرول اور جنوبی مغربی دہلی کے ضلع مجسٹریٹ کی جانب سے پیش کی گئی پیش رفت رپورٹوں کا جائزہ لیا۔ عدالت نے کہا کہ پختہ کنکریٹ کی دیوار تالاب کے تحفظ کے بجائے اس کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ اس سے بارش کا پانی اور کیچمنٹ ایریا سے آنے والا سطحی بہاؤ تالاب تک نہیں پہنچ پائے گا، جس سے تالاب میں پانی کا جمود اور ماحولیاتی خرابی پیدا ہو سکتی ہے۔
این جی ٹی نے تجویز دی کہ تالاب کے اطراف جھاڑیوں اور درختوں کی شجرکاری کے ذریعے بایو فینسنگ کی جائے۔ اس سے نہ صرف تالاب محفوظ رہے گا بلکہ ماحول کی خوبصورتی میں اضافہ ہوگا اور فضائی آلودگی پر قابو پانے میں بھی مدد ملے گی۔ ٹریبونل نے مزید ہدایت دی کہ تالاب کی باقاعدگی سے صفائی کی جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ تالاب یا اس کے اطراف کہیں بھی ٹھوس کچرا نہ پھینکا جائے۔
مناسب مقامات پر انتباہی بورڈ بھی نصب کیے جائیں۔ این جی ٹی نے نوٹ کیا کہ اس منصوبے کے لیے فنڈز پہلے ہی مختص کیے جا چکے ہیں اور دیوار کا کچھ حصہ تعمیر بھی ہو چکا ہے، لہٰذا باقی حصوں میں جہاں ممکن ہو، بایو فینسنگ اور شجرکاری کو ترجیح دی جائے۔ عدالت نے جنوبی مغربی دہلی کے ضلع مجسٹریٹ کو ہدایت دی کہ موجودہ برسات کے موسم میں متعلقہ ڈپٹی کنزرویٹر آف فاریسٹ (ڈی سی ایف) کو شامل کرکے شجرکاری کا کام کرایا جائے۔
تجاوزات کے معاملے میں ٹریبونل نے کہا کہ پیش رفت رپورٹوں سے واضح ہے کہ تالاب کی زمین پر تجاوزات موجود ہیں، لیکن صرف اس وجہ سے کہ معاملہ این جی ٹی میں زیرِ سماعت ہے، قانونی طریقۂ کار اختیار کیے بغیر انہدامی کارروائی نہیں کی جا سکتی۔
عدالت نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ تمام تجاوزات کی فہرست تیار کی جائے اور دہلی ہائی کورٹ، سپریم کورٹ یا کسی مجاز عدالت کے احکامات کے تابع رہتے ہوئے قانون کے مطابق بے دخلی کی کارروائی کی جائے۔ این جی ٹی نے آئندہ سماعت سے کم از کم ایک دن قبل نئی پیش رفت رپورٹ جمع کرانے کا بھی حکم دیا، جس میں تالاب میں بغیر صفائی کے سیوریج کے اخراج کو روکنے، تالاب اور اس کے اطراف سے ٹھوس کچرا ہٹانے اور دیگر اقدامات کی تفصیلات شامل ہوں۔ ٹریبونل نے امید ظاہر کی کہ میونسپل کارپوریشن آف دہلی (ایم سی ڈی) اور دہلی جل بورڈ (ڈی جے بی) ان اصلاحی اقدامات پر عمل درآمد میں مکمل تعاون کریں گے۔