پرچہ لیک معاملہ:ملزمین کی ضمانت کی درخواست پر سی بی آئی سے جواب طلب

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 17-07-2026
 پرچہ لیک معاملہ:ملزمین کی ضمانت کی درخواست پر سی بی آئی سے جواب طلب
پرچہ لیک معاملہ:ملزمین کی ضمانت کی درخواست پر سی بی آئی سے جواب طلب

 



نئی دہلی: دہلی کی روز ایونیو عدالت نے نیٹ یو جی پرچہ لیک معاملے میں گرفتار ملزمان دنیش بیوال اور وکاس بیوال کی ضمانت کی درخواستوں پر مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) سے جواب طلب کر لیا ہے۔ عدالت نے اس معاملے کی آئندہ سماعت 23 جولائی مقرر کی ہے، جس روز سی بی آئی کا جواب اور ضمانت کی درخواستوں پر دلائل سنے جائیں گے۔

خصوصی سی بی آئی جج اجے گپتا نے سی بی آئی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب داخل کرنے کی ہدایت دی۔ ملزمان کی جانب سے وکیل اے پی سنگھ پیش ہوئے، جبکہ سی بی آئی کی جانب سے سینئر سرکاری وکیل نیتو سنگھ نے نوٹس وصول کرتے ہوئے جواب داخل کرنے کے لیے مہلت طلب کی۔

دنیش بیوال اور وکاس بیوال ان 13 ملزمان میں شامل ہیں جنہیں سی بی آئی نے نیٹ یو جی کا سوالیہ پرچہ امتحان سے قبل مبینہ طور پر لیک کرنے کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔ تمام ملزمان اس وقت 24 جولائی تک عدالتی تحویل میں ہیں۔

اس معاملے میں 12 مئی 2026 کو ایک سرکاری افسر کی شکایت پر بھارتیہ نیائے سنہتا، انسداد بدعنوانی قانون اور امتحانات میں ناجائز ذرائع استعمال کرنے سے متعلق دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

سی بی آئی کے مطابق منگی لال بیوال نے اپنے بیٹے وکاس بیوال کے لیے نیٹ کا سوالیہ پرچہ حاصل کرنے کی غرض سے شبھم کھیرنار سے رابطہ کیا تھا۔ تفتیش کے دوران منگی لال بیوال کے موبائل فون سے مبینہ طور پر سوالیہ پرچہ بھی برآمد کیا گیا۔

ایجنسی کا دعویٰ ہے کہ منگی لال بیوال نے یش یادو سے 10 لاکھ روپے میں لیک شدہ پرچہ حاصل کیا تھا۔ پوچھ گچھ کے دوران وکاس بیوال نے بتایا کہ اس کی یش یادو سے ملاقات راجستھان کے سیکر میں کوچنگ کے دوران ہوئی تھی۔

سی بی آئی کے مطابق منگی لال بیوال نے بعد میں شبھم کھیرنار سے بھی رابطہ کیا، جس کے بعد دیگر ملزمان پر مشتمل ایک بڑا نیٹ ورک وجود میں آیا۔ ایجنسی کا الزام ہے کہ سب سے پہلے شبھم نے پرچہ یش یادو کو دیا، پھر یش نے منگی لال بیوال کو، اس کے بعد وکاس بیوال اور پھر دنیش بیوال تک یہ پرچہ پہنچا۔

تفتیشی ایجنسی نے یہ بھی الزام لگایا ہے کہ منگی لال بیوال نے بعد میں یہی لیک شدہ پرچہ مختلف امیدواروں کو 12 لاکھ روپے میں فروخت کیا۔

اس سے قبل عدالت نے ملزم یش یادو کو عدالتی تحویل میں رہتے ہوئے 21 جون کو نیٹ یو جی امتحان میں شرکت اور 22 جون کو اپنی بہن کی شادی میں شامل ہونے کی اجازت دی تھی۔