نئی دہلی: این ڈی اے پارلیمانی پارٹی کا ہفتہ وار 'منگل ملن' اجلاس منگل کو پارلیمنٹ میں منعقد ہوا، جس میں وزیر اعظم نریندر مودی، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ، وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ اور این ڈی اے کے دیگر سرکردہ رہنما شریک ہوئے۔ پارلیمنٹ لائبریری عمارت کے جی ایم سی بالایوگی آڈیٹوریم میں منعقدہ اس اجلاس میں بی جے پی کے قومی صدر نتن نبین بھی موجود تھے۔
اجلاس سے قبل نیشنلسٹ سٹیزنز پارٹی آف انڈیا (این سی پی آئی) کے رکن پارلیمنٹ سدپ بندیوپادھیائے بھی پارلیمنٹ لائبریری پہنچے۔ انہوں نے کہا، "میں آج پہلی بار این ڈی اے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں شرکت کر رہا ہوں۔ میں ملک کے سینئر ترین ارکان پارلیمنٹ میں سے ایک ہوں اور این سی پی آئی پوری طرح متحد ہے۔"
قابل ذکر ہے کہ گزشتہ ہفتے ہونے والے این ڈی اے کے 'منگل ملن' اجلاس میں این سی پی آئی کے اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے تین ارکان پارلیمنٹ—ابو طاہر خان، خلیل الرحمن اور یوسف پٹھان—شریک نہیں ہوئے تھے۔ اس کے بعد پارٹی میں اختلافات کی قیاس آرائیاں کی گئیں، تاہم این سی پی آئی نے ان خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی متحد ہے۔
دوسری جانب ترنمول کانگریس کے بعض رہنماؤں نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ تینوں ارکان بی جے پی کی قیادت والے قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کا حصہ بننے کے خواہاں نہیں ہیں۔ این سی پی آئی میں ترنمول کانگریس کے تقریباً 20 باغی ارکان پارلیمنٹ شامل ہوئے تھے، جنہوں نے اسمبلی انتخابات میں پارٹی کی شکست کے بعد ترنمول چھوڑنے کا اعلان کیا تھا اور این ڈی اے کی حمایت کا فیصلہ کیا تھا۔
اجلاس کے اختتام پر مرکزی وزیر برائے پارلیمانی امور کرن رجیجو نے وزیر اعظم نریندر مودی کی موجودگی میں اتحادی جماعتوں کے ارکان سے خطاب کیا۔ مرکزی وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل اور مرکزی وزیر پنچایتی راج، ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری راجیو رنجن سنگھ نے بھی اجلاس سے خطاب کیا۔
پیوش گوئل نے ہندوستان کے حالیہ آزاد تجارتی معاہدوں (ایف ٹی اے) کی کامیابی اور ان کے اسٹریٹجک اثرات پر روشنی ڈالی، جبکہ راجیو رنجن سنگھ نے ماہی پروری کے شعبے کی ترقی، حکومت کی مختلف اسکیموں اور مستقبل کے لائحۂ عمل پر ارکان کو آگاہ کیا۔