نئی دہلی: انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کے جموں سب زونل دفتر نے 23 جولائی کو منی لانڈرنگ کی روک تھام کے قانون (پی ایم ایل اے)، 2002 کے تحت پنجاب اور جموں و کشمیر میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے قریب 9 مقامات پر تلاشی کی کارروائی انجام دی۔ یہ کارروائی منشیات کے ذریعے دہشت گردی کی مالی معاونت (نارکو ٹیرر فنڈنگ) سے متعلق جاری تحقیقات کے سلسلے میں کی گئی، جو جموں و کشمیر پولیس اور پنجاب پولیس کے درج مقدمات پر مبنی ہے۔
ای ڈی کے مطابق تحقیقات میں پنجاب اور جموں و کشمیر کے درمیان سرگرم ایک منظم اور کئی سطحوں پر مشتمل نارکو ٹیرر فنڈنگ نیٹ ورک کا انکشاف ہوا۔ اس میں پنجاب کے مبینہ ہینڈلرز ستنام سنگھ اور منجیت سنگھ عرف مان جبکہ کپواڑہ (ایل او سی کے قریب) کے صفیر احمد اور کفیل احمد سمیت دیگر افراد شامل ہیں۔ تحقیقات کے مطابق پاکستان میں موجود، دہشت گرد تنظیم حزب المجاہدین سے منسلک ہینڈلرز ہیروئن کی کھیپ سرحد پار بھجواتے تھے۔
کشمیر میں موجود مبینہ ملزمان صفیر احمد اور کفیل احمد انہیں امروہی سرحد/ایل او سی کے ملحقہ علاقوں سے ہندوستان میں اسمگل کرنے میں مدد کرتے تھے۔ ایک واقعے میں 35 پیکٹ ہیروئن برآمد ہوئے، جن میں سے 5 پیکٹ مقامی طور پر رکھے گئے جبکہ 30 پیکٹ ایک ٹرک کے ٹائر میں چھپا کر سری نگر بھیجے گئے۔
بیان کے مطابق یہ کھیپ سری نگر میں پنجاب کے کیریئرز سربجیت سنگھ اور ہنی بارا کے حوالے کی گئی، جنہیں ستمبر 2023 میں بانہال کے قریب تقریباً 31 کلوگرام ہیروئن کے 30 پیکٹوں سمیت گرفتار کیا گیا۔ ای ڈی کا کہنا ہے کہ پنجاب میں ستنام سنگھ اور منجیت سنگھ عرف مان کی قیادت میں نیٹ ورک جعلی دستاویزات، فرضی گاڑیوں کے کاغذات، گاڑیوں میں خفیہ خانے، متعدد گاڑیوں اور نقد لین دین کے ذریعے ہیروئن کی ترسیل اور تقسیم کرتا تھا۔ تحقیقات میں ایسے کئی دیگر واقعات بھی سامنے آئے، جن میں سری نگر سے پنجاب تک منظم نیٹ ورک کے ذریعے مجموعی طور پر 60 کلوگرام سے زائد ہیروئن منتقل کی گئی۔
ای ڈی کے مطابق ہیروئن کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم دہشت گرد سرگرمیوں کی مالی معاونت کے لیے استعمال کی جاتی تھی۔ ای ڈی نے بتایا کہ تحقیقات میں منجیت سنگھ مان اور سربجیت سنگھ کے بینک کھاتوں میں بڑی مقدار میں نقد رقم جمع کرائے جانے کے شواہد بھی ملے ہیں۔ تلاشی کے دوران کئی اہم دستاویزات اور بینک ریکارڈ ضبط کیے گئے، جبکہ تقریباً 49.9 لاکھ روپے موجود مختلف بینک کھاتوں کو منجمد کر دیا گیا ہے۔ ای ڈی نے کہا کہ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔