نئی دہلی: قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے میانمار میں نسلی مسلح گروہوں کو دہشت گردی اور جنگی تربیت فراہم کرنے کے الزام میں گرفتار پانچ یوکرینی شہریوں اور ایک امریکی شہری کو جمعہ کے روز دہلی کی پٹیالہ ہاؤس عدالت میں پیش کیا۔ این آئی اے کے مطابق ملزمان سیاحتی ویزوں پر بھارت آئے تھے اور بعد ازاں میزورم کے راستے غیر قانونی طور پر میانمار پہنچے، جہاں انہوں نے میانمار کی فوجی حکومت کے خلاف سرگرم نسلی مسلح گروہوں سے رابطہ قائم کیا۔
ایجنسی کا الزام ہے کہ ملزمان نے ان گروہوں کو ڈرون جنگ، ڈرون آپریشن، ڈرون کی تیاری اور جیمنگ ٹیکنالوجی سمیت دیگر عسکری مہارتوں کی تربیت فراہم کی، جس سے بھارت کی قومی سلامتی کے حوالے سے خدشات پیدا ہوئے ہیں۔ تمام ملزمان اس وقت عدالتی تحویل میں ہیں جبکہ معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔
جون میں این آئی اے نے اسی مقدمے میں خصوصی این آئی اے عدالت، پٹیالہ ہاؤس سے گرفتار تمام ملزمان کے صوتی نمونے (وائس سیمپلز) حاصل کرنے کی اجازت بھی طلب کی تھی تاکہ تحقیقات کو آگے بڑھایا جا سکے۔ این آئی اے کے مطابق یہ مقدمہ 13 مارچ 2026 کو وزارت داخلہ کی ہدایت پر غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (یو اے پی اے) کی دفعہ 18 کے تحت درج کیا گیا تھا۔
ایجنسی کا کہنا ہے کہ غیر ملکی شہری سیاحتی ویزوں پر بھارت آئے، میزورم پہنچے اور مطلوبہ اجازت کے بغیر میانمار میں داخل ہوئے، جہاں انہوں نے نسلی مسلح گروہوں کو ڈرون جنگ، ڈرون آپریشن، ڈرون کی اسمبلنگ اور جیمنگ ٹیکنالوجی کی تربیت دی۔
این آئی اے نے عدالت سے اس مقدمے میں گرفتار سات غیر ملکی شہریوں، جن میں امریکی شہری میتھیو ایرن وان ڈائک اور چھ یوکرینی شہری ہوربا پیٹرو، سلویاک تاراس، ایوان سکمانووسکی، اسٹیفانکیو ماریان، ہونچارک میکسم اور کامنِسکی وکٹر شامل ہیں، کے خلاف تحقیقات مکمل کرنے کے لیے قانونی مدت 90 دن سے بڑھا کر 180 دن کرنے کی بھی درخواست کی ہے۔ ایجنسی کا مؤقف ہے کہ یہ ایک گہری اور بین الاقوامی نوعیت کی مجرمانہ سازش ہے، جس کے روابط بھارت کے مختلف حصوں اور بیرونِ ملک تک پھیلے ہوئے ہیں۔
این آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ تحقیقات اہم مرحلے میں ہیں اور ضبط کیے گئے الیکٹرانک آلات کا فرانزک تجزیہ، مالی لین دین کی جانچ، فنڈنگ کے ذرائع کا سراغ لگانے اور مبینہ وسیع سازش کو بے نقاب کرنے کے لیے مزید وقت درکار ہے۔ ایجنسی کے مطابق تحقیقات کے دوران متعدد ڈیجیٹل آلات ضبط کیے گئے ہیں جن کی فرانزک جانچ ابھی جاری ہے۔ اس کے علاوہ ملزمان سے منسلک کئی بینک اکاؤنٹس اور مالی ذرائع کی بھی نشاندہی کی گئی ہے، جن کی مکمل چھان بین کے بعد ہی حتمی رپورٹ عدالت میں پیش کی جا سکے گی۔