ممبئی: مہاراشٹر میں مسلمانوں کو تعلیم اور سرکاری ملازمتوں میں دیے گئے پانچ فیصد ریزرویشن کی منسوخی کے خلاف دائر عرضداشت پر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ Bombay High Court نے ریاستی حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اس معاملے پر واضح جواب طلب کیا ہے اور ہدایت دی ہے کہ عرضداشت میں اٹھائے گئے آئینی اور قانونی نکات پر تفصیلی حلف نامہ جمع کرایا جائے۔
یہ کیس جسٹس ریاض چگلا اور جسٹس ادویت سیٹھنا پر مشتمل ڈیویژن بنچ کے سامنے پیش ہوا۔ ابتدائی سماعت کے بعد عدالت نے آئندہ سماعت 4 مئی تک ملتوی کر دی اور حکومت کو اپریل کے آخر تک اپنا جواب داخل کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے درخواست گزار کو یہ بھی ہدایت دی کہ وہ اپنی عرضداشت میں ضروری ترامیم کریں اور حکومت کے جاری کردہ گورنمنٹ ریزولوشن سمیت تمام متعلقہ دستاویزات انگریزی ترجمے کے ساتھ پیش کریں۔
درخواست گزار ایڈوکیٹ سید اعجاز نقوی نے ریاستی حکومت کے 17 فروری کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ اقدام آئین کی بنیادی روح اور سماجی انصاف کے اصولوں کے خلاف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 2014 کے آرڈیننس کے تحت مسلم سماج کے تقریباً 50 پسماندہ طبقات کو تعلیم اور ملازمت میں پانچ فیصد ریزرویشن دیا گیا تھا، جسے موجودہ حکومت نے بغیر کسی معقول وجہ کے ختم کر دیا۔ انہوں نے اس فیصلے کو مذہبی بنیاد پر امتیاز قرار دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ 2014 میں اس ریزرویشن کو عدالت میں چیلنج کیا گیا تھا، جس کے بعد عدالت نے تعلیمی میدان میں اسے برقرار رکھا جبکہ سرکاری ملازمتوں کے لیے اسے محدود کر دیا گیا۔ اس کے بعد سے مسلم کمیونٹی کے پسماندہ طبقات اس تعلیمی کوٹے سے فائدہ اٹھاتے رہے، لیکن اب حکومت نے اسے ختم کرنے کی کوئی واضح وجہ پیش نہیں کی۔
اس فیصلے پر سیاسی اور سماجی حلقوں میں شدید ردعمل دیکھنے کو ملا۔ Arif Naseem Khan نے کہا کہ مسلمانوں کو 2014 میں پسماندگی کی بنیاد پر ریزرویشن دیا گیا تھا، جسے عدالت نے بھی تعلیم کے شعبے میں برقرار رکھا، اس کے باوجود موجودہ حکومت نے اسے ختم کر کے ناانصافی کی ہے اور اس فیصلے پر فوری نظرثانی ہونی چاہیے۔
ممبئی کانگریس کے جنرل سیکریٹری آصف فاروقی نے عدالت کے نوٹس کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ عدلیہ آئینی اقدار اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحرک ہے۔ اسی طرح ریاستی ترجمان نظام الدین راعین نے بھی عدالت کے اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ حکومت نے محض مذہبی بنیاد پر یہ فیصلہ کیا ہے، جبکہ عدالت کی مداخلت آئینی اصولوں کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔
ادھر نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے اقلیتی شعبہ کے چیئرمین ایڈوکیٹ سید جلال الدین نے کہا کہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہونا ایک مثبت پیش رفت ہے، تاہم سیاسی قیادت کو چاہیے تھا کہ وہ اپنے دور میں اسے مضبوط قانونی بنیاد فراہم کرتی کیونکہ آرڈیننس کے ذریعے کیے گئے فیصلے زیادہ دیرپا ثابت نہیں ہوتے۔
یہ معاملہ صرف مہاراشٹر تک محدود نہیں بلکہ پورے ملک میں ریزرویشن پالیسی، آئینی حقوق اور اقلیتوں کے تحفظ کے حوالے سے ایک اہم بحث کو جنم دے رہا ہے۔ اب سب کی نظریں آئندہ سماعت پر مرکوز ہیں جہاں عدالت اس حساس معاملے میں مزید رہنمائی فراہم کرے گی۔