گوالیار
مدھیہ پردیش کے گوالیار میں ایک خصوصی عدالت نے مالی تنازع سے متعلق ایک معاملے میں جبری وصولی، غیر قانونی رقم وصول کرنے اور ثبوت مٹانے کے الزامات پر ایک سابق سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سمیت چار پولیس افسران کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ معاملہ ضلع کے تھاٹی پور پولیس اسٹیشن میں شکایت کنندہ انوپ سنگھ رانا کے بھائی اور چندرلیکھا جین نامی خاتون کے خلاف درج مالی تنازع کے ایک مقدمے سے جڑا ہوا ہے۔
پولیس کے مطابق، معاملے میں شامل فریقین کے درمیان ایک سمجھوتہ طے پا گیا تھا۔ سمجھوتے کی اطلاع ملنے کے بعد تفتیشی افسر نے ملزم فریق سے رقم کا مطالبہ کیا۔ شکایت کے مطابق، افسر کو مبینہ طور پر تقریباً 5.80 لاکھ روپے دیے گئے تھے، لیکن بعد میں اس نے مزید رقم کا مطالبہ کیا، جس کے بعد معاملہ مزید سنگین ہو گیا۔
شکایت کنندہ کے وکیل ایڈووکیٹ اشوک پرجاپتی نے اے این آئی کو بتایا کہ تھاٹی پور پولیس اسٹیشن میں شکایت کنندہ کے بھائی اور چندرلیکھا جین نامی خاتون کے خلاف مالی تنازع سے متعلق ایک مقدمہ درج تھا۔ اس معاملے میں متاثرہ فریق کے ساتھ سمجھوتہ ہو گیا تھا۔ جب تفتیشی افسر کو اس سمجھوتے کی خبر ملی تو اس نے بھی رقم کا مطالبہ کیا اور اس کی مانگ پوری کی گئی۔ افسر کو 5.80 لاکھ روپے دیے گئے۔ بعد میں افسر کو معلوم ہوا کہ اس معاملے میں 30 لاکھ روپے سے زیادہ کی رقم شامل ہے کیونکہ سمجھوتہ 30 لاکھ روپے میں طے ہوا تھا۔‘‘
اس کے بعد 24 دسمبر 2023 کو شکایت کنندہ انوپ سنگھ رانا اور ان کے بھائی وکرم رانا کو پولیس اسٹیشن بلایا گیا۔ وکیل کے مطابق، چندرلیکھا جین بھی اپنے شوہر کے ساتھ وہاں پہنچیں۔
انہوں نے کہا کہ پولیس اسٹیشن میں دباؤ ڈال کر پولیس نے انوپ سے 9.50 لاکھ روپے اور چندرلیکھا جین سے 15 لاکھ روپے وصول کیے۔ اس کے بعد مزید 6 لاکھ روپے کا مطالبہ کیا گیا۔
وکیل نے بتایا کہ ان سے یہ بھی کہا گیا کہ وہ مالی تنازع والے مقدمے کے شکایت کنندگان کو مزید 30 لاکھ روپے ادا کریں۔ جب انہوں نے انکار کیا تو افسران نے مبینہ طور پر جھوٹے مقدمات میں پھنسانے اور جان سے مارنے کی دھمکی دی۔
پرجاپتی نے کہا کہ اس کے بعد انوپ نے ایس پی دفتر میں شکایت درج کرائی، لیکن اُس وقت کے ایس پی نے جانچ کی ذمہ داری خود اجے سنگھ سیکروار کو دے دی، جن کے خلاف شکایت کی گئی تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ افسر نے انوپ پر شکایت واپس لینے کے لیے دباؤ ڈالا اور خبردار کیا کہ اگر اس نے ایسا نہ کیا تو اس کے خاندان والوں کو بھی مقدمے میں پھنسایا جائے گا۔ جب انوپ نے انکار کیا تو اسے جیل بھیج دیا گیا اور اس کے خاندان والوں کو نوٹس جاری کیے گئے۔
وکیل نے کہا کہ ضمانت ملنے کے بعد انوپ نے عدالت سے رجوع کیا۔ ہم نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے اور عدالت میں پیش کرنے کے لیے درخواست دی، لیکن پولیس نے عدالت کو بتایا کہ فوٹیج دستیاب نہیں ہے۔ جب عدالت نے وضاحت طلب کی تو معلوم ہوا کہ 3 جنوری 2024 سے پہلے کی سی سی ٹی وی فوٹیج حذف کر دی گئی تھی۔
انہوں نے مزید بتای کہ عدالت نے چار پولیس افسران کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا ہے۔ ان افسران میں اُس وقت کے گوالیار ایس پی راجیش کمار چندیل، تھاٹی پور پولیس اسٹیشن انچارج سریندر یادو، تفتیشی افسر اجے سنگھ سیکروار اور کانسٹیبل سنتوش ورما شامل ہیں۔ ان کے خلاف تعزیراتِ ہند کی دفعات 392، 201 اور 120 بی کے ساتھ مدھیہ پردیش ڈکیتی اور اغوا سے متاثرہ علاقہ ایکٹ کی دفعات 11 اور 13 کے تحت مقدمہ درج کیا جائے گا۔