بھوپال
مدھیہ پردیش حکومت نے برگی ڈیم میں پیش آئے کروز کشتی حادثے کی تحقیقات کے لیے ایک رکنی عدالتی کمیشن تشکیل دیا ہے، جس میں 13 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ ایک سینئر افسر نے یہ جانکاری دی۔
افسر نے اتوار کے روز بتایا کہ یہ کمیشن تین ماہ کے اندر اپنی رپورٹ حکومت کو پیش کرے گا۔
مدھیہ پردیش سیاحت محکمہ کے تحت چلنے والی کروز کشتی 30 اپریل کو جبل پور ضلع کے برگی ڈیم میں الٹ گئی تھی، جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت 13 افراد کی موت ہو گئی، جبکہ 28 دیگر افراد کو بچا لیا گیا تھا۔
افسر کے مطابق، اتوار کو ریٹائرڈ ہائی کورٹ جج سنجے دویدی کی صدارت میں قائم کیے گئے اس کمیشن کو حادثے کی وجوہات کی جانچ، راحت اور بچاؤ اقدامات کی مؤثریت کا جائزہ لینے اور ذمہ داری طے کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
کمیشن اندرونِ آبی جہاز رانی قانون 2021 (ان لینڈ ویسیل ایکٹ , 2021) اور این ڈی ایم اے بوٹ سیفٹی گائیڈ لائنز 2017 کے تحت کشتیوں، کروز اور واٹر اسپورٹس سرگرمیوں کے آڈٹ اور سرٹیفکیشن کے لیے بھی سفارشات پیش کرے گا۔
اس کے علاوہ، کمیشن کشتیوں، کروز اور واٹر اسپورٹس سرگرمیوں کے آپریشن اور دیکھ بھال کے لیے معیاری عملی طریقہ کار تیار کرے گا، اور ان مقامات پر کوئیک ریسپانس ٹیم کی تشکیل کے لیے بھی سفارشات دے گا جہاں اس طرح کی سرگرمیاں منعقد کی جاتی ہیں۔افسر نے مزید بتایا کہ ریاستی گزٹ میں نوٹیفکیشن جاری ہونے کی تاریخ سے تین ماہ کے اندر کمیشن اپنی تحقیقات مکمل کر کے رپورٹ حکومت کو سونپ دے گا۔
عدالتی کمیشن کو اس لیے اہم سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس کی عوامی ساکھ اور ادارہ جاتی حیثیت ایک معمول کی محکمانہ جانچ سے کہیں زیادہ مضبوط ہوتی ہے۔