تہران: ایران کے مرحوم سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی نماز جنازہ اور تدفین کی تقریبات سے قبل دارالحکومت تہران کی سڑکوں پر لاکھوں سوگوار جمع ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق یہ تقریبات 4 جولائی سے 9 جولائی تک جاری رہیں گی۔
دارالحکومت میں سیاہ لباس پہنے ہوئے بڑی تعداد میں شہری ایرانی پرچم لہراتے اور سوگ کے ترانے پڑھتے ہوئے نظر آئے۔ متعدد افراد مرحوم رہنما کی تصاویر اٹھائے ہوئے تھے۔ مرحوم سپریم لیڈر کے تابوت کی ابتدائی تصاویر بھی منظر عام پر آئی ہیں جن میں اسے ایرانی قومی رنگوں سے مزین ایک ہال میں رکھا گیا ہے۔
تابوت پر امام حسینؑ کے روضہ مبارک کا مقدس سرخ علم چڑھایا گیا ہے جس پر سفید رنگ میں عبارت درج ہے۔ ایرانی حکومت کے مطابق یہ تاریخی پرچم مزاحمت۔ قربانی اور حق سے غیر متزلزل وابستگی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے آیت اللہ خامنہ ای کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ وہ بڑی تعداد میں جنازے میں شرکت کرکے قومی اتحاد کا مظاہرہ کریں۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ شہادت سفر کا اختتام نہیں بلکہ قومی اتحاد۔ استقامت اور ترقی کے ایک نئے باب کا آغاز ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران ایمان۔ اعلیٰ نظریات اور عظیم قوم کے مضبوط عزم پر قائم ہے۔
نماز جنازہ اور تدفین کی تقریبات کئی روز تک ایران اور عراق کے مختلف شہروں میں منعقد ہوں گی جن میں تہران۔ قم۔ مشہد۔ نجف اور کربلا شامل ہیں۔ یہ تقریبات مرحوم رہنما کی 28 فروری کو امریکی اور اسرائیلی حملوں کے آغاز کے دوران فضائی حملے میں وفات کے چار ماہ بعد منعقد کی جا رہی ہیں۔
حکام کے مطابق تقریبات کے دوران امن و امان برقرار رکھنا اور ملکی قیادت کی حفاظت اولین ترجیح ہوگی۔ اندازہ ہے کہ یہ ایران کی تاریخ میں سکیورٹی کے سب سے بڑے انتظامات میں سے ایک ہوگا۔ صوبہ خراسان رضوی کے گورنر غلام حسین مظفری نے کہا کہ ہجوم کی نگرانی کے لیے فضائی ذرائع بھی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
ادھر موجودہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے نمائندہ برائے ہند آیت اللہ حکیم الٰہی کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای سکیورٹی خدشات کے باعث اپنے والد کی نماز جنازہ اور دیگر تقریبات میں شرکت نہیں کریں گے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز کے اس بیان کے بعد کہ مرحوم رہنما کو ہدف بنایا گیا تھا۔ خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے خبردار کیا کہ موجودہ قیادت کے خلاف کسی بھی کارروائی کا فوری اور سخت جواب دیا جائے گا۔
ایران کی مسلح افواج کے اعلیٰ حکام نے بھی بیرونی طاقتوں کو خبردار کیا ہے کہ سوگ کی اس مدت میں کسی بھی قسم کی جارحیت سے گریز کریں۔ خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈکوارٹر کے کمانڈر میجر جنرل علی عبداللہی نے کہا کہ مضبوط ایران کے دشمن کسی بھی غلط اندازے سے باز رہیں کیونکہ ہر دھمکی اور جارحیت کا سخت اور پچھتاوا پیدا کرنے والا جواب دیا جائے گا۔
مرحوم رہنما کی تدفین چار ماہ بعد ہونے کے باعث ان کے جسد خاکی کو محفوظ رکھنے کے طریقہ کار پر بھی توجہ مرکوز ہوئی ہے۔ انسداد دہشت گردی کے ماہر ڈاکٹر محمد عمر نے فاکس نیوز ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جسد خاکی کو کیمیائی عمل کے بجائے کم درجہ حرارت والے خصوصی سرد خانوں میں محفوظ رکھا گیا۔ ان کے مطابق اسلام میں کیمیائی حنوط کی اجازت نہیں جبکہ فقہ جعفریہ میں غیر معمولی حالات میں سرد ماحول میں جسد کو محفوظ رکھ کر تدفین میں تاخیر کی گنجائش موجود ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے فرانزک مراکز میں لاشوں کو کئی ماہ تک محفوظ رکھنے کی سہولت پہلے سے موجود ہے اس لیے چار ماہ تک سرد خانوں میں محفوظ رکھنا کوئی غیر معمولی بات نہیں۔
ادھر فروری میں حملوں کے بعد مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت کے بارے میں مختلف اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ ایرانی حکام نے ان کی چوٹوں کو معمولی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں صرف چند ٹانکوں کی ضرورت پڑی تھی اور یکم مارچ کو اسپتال سے فارغ کر دیا گیا تھا۔ تاہم امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اس دعوے سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ امریکی انٹیلی جنس کے مطابق ان کے چہرے پر شدید جھلسنے کے آثار تھے جس سے ان کی گفتگو کی صلاحیت بھی متاثر ہوئی تھی۔ اس واقعے کے بعد سے مجتبیٰ خامنہ ای کی کوئی نئی تصویر یا ویڈیو منظر عام پر نہیں آئی۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ تہران کو توقع ہے کہ تقریباً سو ممالک سے سربراہان حکومت۔ پارلیمانی رہنما۔ وزرائے خارجہ۔ خصوصی نمائندے۔ سیاسی شخصیات اور عوامی وفود ان تقریبات میں شرکت کریں گے۔
ہندوستان کی جانب سے بھی ایک اعلیٰ سطحی وفد جنازے میں شرکت کرے گا۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ بہار کے گورنر لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ سید عطاء حسنین اور وزیر مملکت برائے امور خارجہ پبتر مارگریٹا تین جولائی کو ایران پہنچیں گے اور مرحوم آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی نماز جنازہ میں شرکت کریں گے۔
دیگر بین الاقوامی وفود میں پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف بھی شامل ہوں گے جبکہ چین کی نمائندگی نیشنل پیپلز کانگریس کی قائمہ کمیٹی کے نائب چیئرمین ہی وی کریں گے۔ افغانستان کی طالبان حکومت کے نائب وزیر اعظم اور قائم مقام وزیر خارجہ سمیت دو اعلیٰ عہدیدار بھی ان تقریبات میں شرکت کریں گے۔