نئی دہلی : انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ED) نے 645 کروڑ روپے کے عوامی فنڈز میں خرد برد سے متعلق جاری منی لانڈرنگ تحقیقات کے سلسلے میں آئی ڈی ایف سی فرسٹ بینک کے دو سابق ملازمین کو گرفتار کر لیا ہے۔ ای ڈی کے چندی گڑھ زونل دفتر نے 11 مئی کو آئی ڈی ایف سی بینک کے دو سابق ملازمین، رِبھَو رِشی اور ابھیے کمار، کو پریوینشن آف منی لانڈرنگ ایکٹ (PMLA) 2002 کے تحت گرفتار کیا۔
دونوں ملزمان کو پی ایم ایل اے کی دفعہ 19 کے تحت گرفتار کرنے کے بعد خصوصی پی ایم ایل اے عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں عدالت نے دونوں کو 21 مئی تک 10 روزہ ای ڈی ریمانڈ پر بھیج دیا۔ ای ڈی کے مطابق اب تک کی تحقیقات سے انکشاف ہوا ہے کہ ہریانہ حکومت، چندی گڑھ یونین ٹیریٹری انتظامیہ، اور چندی گڑھ و پنچکولہ کے دو نجی اسکولوں کے آئی ڈی ایف سی فرسٹ بینک میں موجود اکاؤنٹس سے 645 کروڑ روپے کے عوامی فنڈز میں خرد برد کی گئی۔
ای ڈی نے بتایا کہ رِبھَو رِشی نے اپنے ذاتی معاون اور ڈرائیور کے نام پر “کیپکو فن ٹیک سروسز” اور “آر ایس ٹریڈر” نامی فرضی کمپنیاں قائم کیں۔ اسی طرح وفاقی ایجنسی کے مطابق ابھیے کمار نے اپنی بیوی اور بہنوئی کے نام پر “سواستک دیش پروجیکٹس” نامی ایک فرضی کمپنی بنائی۔ ای ڈی نے اپنے بیان میں کہا: “ان فرضی کمپنیوں نے سرکاری محکموں کے مختلف اکاؤنٹس سے خرد برد کیے گئے کروڑوں روپے براہ راست وصول کیے، جس کے بعد ان رقوم کو مختلف طریقوں سے منتقل اور غبن کیا گیا۔ مکمل منی ٹریل کا پتہ لگانے اور دیگر فائدہ اٹھانے والوں اور اس رقم سے خریدی گئی جائیدادوں کی شناخت کے لیے کوششیں جاری ہیں۔