مودی حکومت اپنے مفاد کے لیے ہندوستان کی زراعت کو قربان کرنے کے لیے تیار: راہل

Story by  اے این آئی | Posted by  Aamnah Farooque | Date 14-03-2026
مودی حکومت اپنے مفاد کے لیے ہندوستان کی زراعت کو قربان کرنے کے لیے تیار: راہل
مودی حکومت اپنے مفاد کے لیے ہندوستان کی زراعت کو قربان کرنے کے لیے تیار: راہل

 



نئی دہلی
کانگریس رہنما راہل گاندھی نے ہفتہ کے روز الزام لگایا کہ بی جے پی کی قیادت والی حکومت نے کسانوں سے کیے گئے وعدے پورے نہیں کیے اور وہ اپنے مفادات کے لیے ہندوستان کی زراعت کو قربان کرنے کے لیے تیار ہے۔لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے فیس بک پر ایک پوسٹ میں حال ہی میں ایوان میں پوچھے گئے اپنے سوال کا ذکر کیا۔ انہوں نے پوچھا تھا کہ فصلوں کے لیے کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) کے اعلان کے بارے میں حکومت کیا موقف رکھتی ہے اور کیا امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدہ وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کی موجودہ ایم ایس پی پالیسی کو تبدیل کرے گا۔
انہوں نے لکھا كہ لوک سبھا میں میں نے حکومت سے سیدھا سوال کیا کہ 2021 میں کسانوں سے کیا گیا قانونی ایم ایس پی کا وعدہ، جو سی 2+50 فیصد کے حساب سے طے ہونا تھا، اب تک کیوں نافذ نہیں کیا گیا؟
راہل گاندھی کے مطابق حکومت نے براہ راست جواب دینے سے گریز کرتے ہوئے صرف اپنی موجودہ ایم ایس پی پالیسی کو دہرا دیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ وہ ریاستوں پر ایم ایس پی بونس بند کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے اور اسے "قومی ترجیحات" کے نام پر درست قرار دینے کی کوشش کر رہی ہے۔
کانگریس رہنما نے کہا کہ ایک اور اہم سوال یہ ہے کہ کیا امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدے میں "نان ٹریڈ بیریئرز" کو کم کرنے کی بات شامل ہے۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ایم ایس پی نظام اور سرکاری خریداری کے عمل کو کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے؟انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت اس سوال سے بھی بچنے کی کوشش کر رہی ہے۔
راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ مودی حکومت نہ صرف کسانوں سے کیے گئے وعدوں کو پورا کرنے سے انکار کر رہی ہے بلکہ اپنے مفادات کے لیے ہندوستانی زراعت کو قربان کرنے کے لیے بھی تیار ہے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ کانگریس کسانوں کے حقوق کے تحفظ اور ایم ایس پی کو بچانے کے لیے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر اپنی آواز بلند کرتی رہے گی۔