سری نگر: پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے ہفتہ کو جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا سے کشتواڑ عصمت دری اور موت کے معاملے کو شفاف اور وقت مقررہ کے اندر تحقیقات کے لیے کرائم برانچ کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا۔ جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ نے ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ یہ واقعہ خواتین کے خلاف بڑھتے ہوئے جرائم کا محض ایک اور معاملہ نہیں ہے، بلکہ ’’ہمارے معاشرے کے ضمیر پر ایک گہرا اور ناسور بن چکا زخم ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ اس واقعے کو 10 دن گزر چکے ہیں اور اس ’’وحشیانہ جرم‘‘ کے گرد چھائی خاموشی سوگوار خاندان کی تکلیف میں اضافہ کر رہی ہے اور نظامِ انصاف پر عوام کے اعتماد کو کمزور کر رہی ہے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اگر اب فیصلہ کن کارروائی نہیں کی گئی اور مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لا کر مثالی سزا نہیں دی گئی تو ایسے سنگین جرائم بے خوف ہو کر جاری رہیں گے۔
The rape and murder of a school girl in Chatroo, Kishtwar, is not merely another instance of rising crimes against women. It is a deep, festering wound on the conscience of our society.Ten days on, the silence surrounding this brutal crime is only deepening the anguish of the…
— Mehbooba Mufti (@MehboobaMufti) August 29, 2026
پی ڈی پی صدر نے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا سے مطالبہ کیا کہ معاملہ فوری طور پر کرائم برانچ کے حوالے کیا جائے اور منصفانہ، شفاف اور وقت مقررہ کے اندر تحقیقات یقینی بنائی جائیں۔ پولیس کے مطابق، کشتواڑ ضلع کی ایک 15 سالہ قبائلی لڑکی کے ساتھ اس کے اسکول ٹیچر نے مبینہ طور پر کئی ماہ تک بار بار جنسی زیادتی کی، جس کے نتیجے میں وہ حاملہ ہوگئی تھی۔ جموں و کشمیر کے کشتواڑ ضلع کے چھاترو علاقے میں حمل گرانے کی مبینہ کوشش کے بعد 20 اگست کو اس کی موت ہوگئی۔