نئی دہلی
اتر پردیش کے ضلع غازی آباد کے کھوڑا تھانہ علاقے میں 28 مئی کو ایک 17 سالہ ہندو نوجوان سوریا پرتاپ چوہان کے قتل کے معاملے پر بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی سربراہ اور سابق وزیر اعلیٰ مایاوتی نے گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کیا ہے۔مایاوتی نے کہا کہ اس قسم کے واقعات نہایت افسوسناک اور تشویش ناک ہیں اور ان کے دور رس نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے حکومت کو مشورہ دیا کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مکمل چوکسی اختیار کی جائے اور قصورواروں کو سخت قانونی سزا دی جائے۔
مایاوتی کا بیان
بی ایس پی سربراہ نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا کہ اتر پردیش کے ضلع غازی آباد کے کھوڑا علاقے میں نوجوان سوریا چوہان کے قتل کا واقعہ انتہائی افسوسناک اور تشویش ناک ہے۔ اس قسم کے واقعات بار بار پیش آ رہے ہیں، جن کی روک تھام کے لیے حکومت اور انتظامیہ کو مؤثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے مزید کہ کہ اس واقعے میں ملوث مجرموں کی شناخت کرکے انہیں قانون کے مطابق سزا دی جانی چاہیے۔ جیسے جیسے انتخابات قریب آئیں گے، اس طرح کے واقعات کے وسیع اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، لہٰذا حکومت کو مکمل طور پر محتاط رہنا چاہیے۔
کیا ہے معاملہ؟
رپورٹس کے مطابق 28 مئی کو کھوڑا کالونی میں سوریا چوہان کو چاقوؤں کے وار کرکے قتل کر دیا گیا تھا۔الزام ہے کہ سوریا کے مسلم دوست اسد نے بقرعید کے روز دوپہر تقریباً ساڑھے تین بجے اسے فون کرکے بلایا تھا۔ بعد ازاں اس سے پوچھا گیا کہ کیا اس نے کبھی بکرے کو ذبح ہوتے دیکھا ہے۔ سوریا کے انکار پر مبینہ طور پر اسد اور اس کے ساتھیوں نے اس پر چاقوؤں سے حملہ کر دیا۔شدید زخمی حالت میں سوریا کو نوئیڈا کے ایک اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں جمعہ کی دوپہر اس کی موت ہو گئی۔
تین ملزمان گرفتار
متوفی کے بڑے بھائی یش چوہان کی شکایت پر کھوڑا پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔پولیس نے اس معاملے میں تین ملزمان کو گرفتار کیا ہے، جن میں دو نابالغ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ دو مشتبہ افراد کو حراست میں لے کر پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔پولیس کے مطابق مرکزی ملزم اور اس کے خاندان کے بعض افراد تاحال فرار ہیں۔ ان کی گرفتاری کے لیے پولیس کی تین خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔
واقعے کے بعد بعض ہندو تنظیموں میں غم و غصہ پایا جاتا ہے، جبکہ علاقے میں کشیدگی کے پیش نظر اضافی پولیس فورس تعینات کر دی گئی ہے۔