نئی دہلی: سپریم کورٹ نے بدھ کے روز متھرا کے کرشن جنم بھومی۔شاہی عیدگاہ مسجد تنازع سے متعلق ایک عرضی کی سماعت 12 اگست تک ملتوی کر دی۔ عدالت کو بتایا گیا کہ ہندو فریق آپس میں اس بات پر بات چیت کر رہے ہیں کہ اس معاملے میں کس مقدمے کو بنیادی (لیڈ) مقدمہ قرار دیا جائے۔
سپریم کورٹ ایک ہندو فریق کی اس عرضی پر سماعت کر رہی تھی، جس میں الہ آباد ہائی کورٹ کے 2025 کے اس حکم کو چیلنج کیا گیا ہے جس کے تحت ایک دوسرے ہندو فریق کو ایک الگ مقدمے میں بھگوان کرشن کے تمام عقیدت مندوں کا نمائندہ تسلیم کیا گیا تھا۔
جسٹس سنجے کمار اور جسٹس سنجیو سچدیوا پر مشتمل بنچ نے ایک ہندو فریق کے وکیل کی جانب سے یہ بتائے جانے کے بعد کہ مدعیان کے درمیان غیر رسمی بات چیت جاری ہے، سماعت 12 اگست تک ملتوی کر دی۔ سماعت کے آغاز میں بنچ نے بعض ہندو فریقوں کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل وشنو شنکر جین اور دوسرے ہندو فریق کے وکیل پی وی یوگیشورن سے دریافت کیا کہ کیا ان کے درمیان کوئی بات چیت جاری ہے؟ جسٹس سنجے کمار نے کہا، "اگر فریقین کے درمیان کوئی بات چیت جاری ہے تو ہم سماعت ملتوی کر دیتے ہیں۔"
وکیل پی وی یوگیشورن نے عدالت سے کہا کہ وہ اس بات چیت کا ذکر عدالتی حکم میں نہ کرے، کیونکہ یہ صرف مدعیان کے درمیان غیر رسمی سطح پر ہو رہی ہے۔ جسٹس سنجے کمار نے کہا کہ اس مقدمے کی سماعت کئی مرتبہ ملتوی ہو چکی ہے، اس لیے اس بار صرف اسی صورت میں ملتوی کی جائے گی جب واقعی فریقین کے درمیان بات چیت جاری ہو۔
بنچ نے کہا، "ہم فریقین کو اس بات چیت کا پابند نہیں بنا رہے ہیں۔ اگر مذاکرات ہو رہے ہیں تو اس کا ذکر عدالتی حکم میں بھی کیا جا سکتا ہے، اس میں کیا حرج ہے؟" اس کے بعد عدالت نے معاملے کی سماعت اگست تک ملتوی کر دی۔ سپریم کورٹ کے سامنے پہلے ہی شاہی عیدگاہ مسجد کمیٹی اور ہندو فریقوں کی جانب سے دائر متعدد عرضیاں زیرِ سماعت ہیں، جن میں 26 مئی 2023 کے الہ آباد ہائی کورٹ کے اس حکم کو بھی چیلنج کیا گیا ہے، جس کے تحت متھرا کی عدالت میں زیرِ سماعت اس تنازع سے متعلق تمام مقدمات ہائی کورٹ کو منتقل کر دیے گئے تھے۔
گزشتہ سال 18 جولائی کو الہ آباد ہائی کورٹ نے ایک دوسرے ہندو فریق، جس نے متھرا کے متنازع مقام سے شاہی عیدگاہ مسجد ہٹانے کی درخواست دائر کی تھی، کو بھگوان کرشن کے تمام عقیدت مندوں کا نمائندہ قرار دینے کی اجازت دی تھی۔ ہائی کورٹ نے 2023 کے مقدمہ نمبر 17 کے مدعی کی درخواست منظور کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کی عرضی کو کرشن جنم بھومی۔شاہی عیدگاہ تنازع سے متعلق دیگر تمام مقدمات کی نمائندہ عرضی تصور کیا جائے گا۔ عدالت نے واضح کیا تھا کہ اب مقدمہ نمبر 17 کو بنیادی (نمائندہ) مقدمہ مانا جائے گا اور اسی کی پہلے سماعت اور فیصلہ کیا جائے گا۔
اس فیصلے سے متاثرہ ہندو فریق نے سپریم کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے کہا کہ تمام دیوانی مقدمات ہائی کورٹ منتقل ہونے کے بعد اس کے مقدمے کو بنیادی مقدمہ سمجھا جا رہا تھا، لیکن ہائی کورٹ نے غلطی سے دوسرے فریق کو تمام عقیدت مندوں کا نمائندہ قرار دے دیا۔ اس سے قبل جسٹس سنجے کمار کی سربراہی والی بنچ نے کہا تھا کہ یہ معاملہ تفصیلی غور و خوض کا متقاضی ہے اور فریقین کو مکمل تیاری کے ساتھ دلائل پیش کرنے کی ہدایت دی تھی۔ یہ تنازع شاہی عیدگاہ مسجد سے متعلق ہے، جس کے بارے میں ہندو فریق کا دعویٰ ہے کہ مغل بادشاہ اورنگزیب نے بھگوان کرشن کی جائے پیدائش پر موجود مندر کو منہدم کرکے مسجد تعمیر کرائی تھی۔
متھرا کی عدالت میں دائر اس تنازع سے متعلق 20 سے زائد دیوانی مقدمات الہ آباد ہائی کورٹ منتقل کیے جا چکے ہیں، جہاں وہ زیرِ سماعت ہیں۔ ہندو فریق نے ہائی کورٹ سے یہ بھی درخواست کی تھی کہ وہ بابری مسجد۔رام جنم بھومی ملکیتی تنازع کی طرح اس معاملے کی بھی اصل سماعت خود کرے۔ سپریم کورٹ نے 16 جنوری 2024 کو الہ آباد ہائی کورٹ کے 14 دسمبر 2023 کے اس حکم پر روک لگا دی تھی، جس میں شاہی عیدگاہ مسجد کمپلیکس کا عدالت کی نگرانی میں سروے کرانے اور اس کے لیے عدالتی کمشنر مقرر کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ ہندو فریق کا دعویٰ ہے کہ مسجد کے احاطے میں ایسے آثار موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اس مقام پر پہلے ایک مندر موجود تھا۔