منی پور: وزیر اعلیٰ کے دورے پر کُکی برادری کا احتجاج

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 04-07-2026
منی پور: وزیر اعلیٰ کے دورے پر کُکی برادری کا احتجاج
منی پور: وزیر اعلیٰ کے دورے پر کُکی برادری کا احتجاج

 



چوراچاندپور: منی پور کے سابق بی جے پی رکن اسمبلی ونگزاگن والٹے کی آخری رسومات سے قبل ہفتہ کو ضلع چوراچاندپور میں سیکڑوں کُکی افراد نے وزیر اعلیٰ وائی کھیم چند سنگھ کے مجوزہ دورے کے خلاف احتجاج کیا۔ حکام کے مطابق کم از کم چھ کُکی تنظیموں نے کُکی-زو اکثریتی ضلع میں وزیر اعلیٰ کے دورے کا بائیکاٹ کرتے ہوئے ریاست میں جاری نسلی تنازع کا مستقل حل نکالنے کا مطالبہ کیا۔

مسلح گروپ کی جانب سے ہڑتال کی اپیل کے بعد ضلع ہیڈکوارٹر میں بازار بند رہے جبکہ سڑکوں پر ٹریفک بھی معطل رہی۔ متعدد مظاہرین نے کپرانگ علاقے کے قریب تیدم روڈ پر جمع ہو کر امپھال سے چوراچاندپور جانے والی شاہراہ کو بھی بند کر دیا۔ جمعہ کی رات تقریباً 11 بجے چوراچاندپور ضلع کے جالینگ پھائی علاقے میں، جو بشنو پور ضلع کی سرحد سے متصل ہے، مسلح افراد نے ہوائی فائرنگ بھی کی۔

کُکی سول سوسائٹی آرگنائزیشن کے بینر تلے کُکی اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن، کُکی اِنپی چوراچاندپور اور کُکی ویمن یونین سمیت دیگر تنظیموں نے ایک بیان میں کہا کہ جب تک جاری کُکی-زو اور میتی تنازع کا حل نہیں نکلتا، وہ اپنے ضلع میں کسی بھی میتی فرد، سرکاری اہلکار یا گروہ کو داخل ہونے کی اجازت نہیں دیں گے۔ یہ احتجاج وزیر اعلیٰ کے اس دورے کے اعلان کے بعد شروع ہوا جس میں وہ سابق بی جے پی رکن اسمبلی ونگزاگن والٹے کی آخری رسومات میں شرکت کرنے والے تھے۔ تھانلون اسمبلی حلقے سے تین مرتبہ منتخب ہونے والے 61 سالہ والٹے کا تعلق زومی برادری سے تھا۔ ان کی تدفین ہفتہ کو چوراچاندپور ضلع کے ڈورکس وینگ گاؤں کے قبرستان میں کی گئی۔

والٹے کی میت فروری میں دہلی سے لائے جانے کے بعد سے چوراچاندپور ضلع اسپتال میں رکھی گئی تھی۔ وہ مئی 2023 میں منی پور میں نسلی تشدد کے آغاز کے دوران امپھال کے ناگاماپال علاقے میں ہجوم کے حملے میں شدید زخمی ہو گئے تھے، جس کے بعد علاج کے لیے دہلی منتقل کیے گئے۔ تقریباً دو سال علاج کے بعد وہ گزشتہ سال اپریل میں اپنی اہلیہ کے ساتھ چوراچاندپور واپس آئے، تاہم 7 فروری کو ان کی طبیعت اچانک بگڑ گئی اور اگلے روز انہیں ایئر ایمبولینس کے ذریعے دہلی لے جایا گیا، جہاں 20 فروری کو گروگرام کے ایک نجی اسپتال میں ان کا انتقال ہو گیا۔

ان کی وفات کے بعد زومی تنظیموں نے زومی کوآرڈینیشن کمیٹی (زی سی سی) تشکیل دی، جس نے انصاف اور جوابدہی سے متعلق معاملات پر مرکزی اور ریاستی حکومت سے رابطے سمیت دیگر امور کی نگرانی کی، جس کے باعث تدفین میں تاخیر ہوئی۔ ذرائع کے مطابق کمیٹی نے حال ہی میں والٹے کی میت ان کے اہل خانہ کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ آخری رسومات ادا کی جا سکیں۔ زی سی سی نے رکن اسمبلی پر حملے کی قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) یا سی بی آئی سے مقررہ مدت میں تحقیقات کرانے اور منی پور کے کُکی-زو اکثریتی علاقوں کو مقننہ کے ساتھ مرکز کے زیر انتظام علاقہ بنانے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق والٹے نے الگ انتظامی ڈھانچے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی کو بھی خط لکھا تھا۔ واضح رہے کہ مئی 2023 سے منی پور میں وادی کے میتی اور پہاڑی علاقوں کے کُکی برادریوں کے درمیان نسلی تشدد میں کم از کم 260 افراد ہلاک اور ہزاروں بے گھر ہو چکے ہیں۔