نئی دہلی
عام آدمی پارٹی (اے اے پی) نے جمعرات کے روز الزام لگایا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت والی دہلی حکومت مالویہ نگر کے ہوٹل میں لگنے والی آگ کو بجھانے میں تاخیر کی اپنی ناکامی کو چھپانے کے لیے عوام کو گمراہ کر رہی ہے۔ پارٹی نے واقعے کے حوالے سے دہلی کے وزیر داخلہ آشیش سود کی برطرفی کا مطالبہ کیا۔
اے اے پی کی دہلی اکائی کے صدر سورو بھاردواج نے الزام لگایا کہ قومی دارالحکومت میں بار بار آگ لگنے کے واقعات پیش آئے ہیں، جہاں فائر بریگیڈ کی تاخیر اور دیگر غفلتوں کو مقامی لوگوں نے بارہا اجاگر کیا ہے۔
بھاردواج نے کہا کہ ہمیں فائر ڈپارٹمنٹ کی ناکامیوں کے بارے میں مسلسل سننے کو مل رہا ہے اور ہر جگہ مقامی لوگوں کی شکایات ایک جیسی ہیں۔ حکومت ہر آگ کے واقعے کے بعد صرف لوگوں کو گمراہ کرنے اور فائر ڈپارٹمنٹ کی ناکامیوں کو چھپانے کی کوشش کرتی ہے۔ وزیر آشیش سود اس کے براہ راست ذمہ دار ہیں اور انہیں فوری طور پر برطرف کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ واقعے کے دن کی ویڈیو میں صبح 8:15 بجے مقامی لوگوں کو گدوں کی مدد سے ریسکیو آپریشن کرتے دیکھا جا سکتا ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس وقت تک نہ فائر بریگیڈ موقع پر پہنچی تھی اور نہ ہی پولیس۔ وہ تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کی تاخیر سے پہنچے۔بھاردواج نے مزید کہا: "پولیس اسٹیشن کے پیچھے واقع فائر اسٹیشن آگ لگنے کی جگہ سے صرف تین منٹ کے فاصلے پر ہے۔ پھر بھی فائر اہلکاروں کو موقع پر پہنچنے میں ڈیڑھ گھنٹہ کیوں لگا؟
بدھ کی صبح "فلورش اسٹی بی اینڈ بی" میں آگ لگ گئی تھی جس میں 21 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہو گئے۔ مرنے والوں میں کئی غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں جو اپنے زیر علاج رشتہ داروں کی تیمارداری کے لیے وہاں ٹھہرے ہوئے تھے۔
حکام نے بتایا کہ آگ لگنے کی وجہ ابھی تک معلوم نہیں ہو سکی ہے۔