ممبئی: مہاراشٹر انسدادِ دہشت گردی دستے (اے ٹی ایس) نے جمعہ کو ریاست کے مختلف مقامات پر تلاشی مہم چلائی۔ یہ کارروائی ان افراد کے خلاف کی جا رہی ہے جن کے بارے میں الزام ہے کہ ان کے سوشل میڈیا کے ذریعے پاکستان میں موجود مبینہ آئی ایس آئی ہینڈلر شہزاد بھٹی سے رابطے تھے۔
اے ٹی ایس کے مطابق ممبئی، تھانے، کرلا، باندرہ، جوگیشوری، نوی ممبئی، میرا روڈ، بھائیندر، سانگلی، ستارا، چھترپتی سمبھاجی نگر سمیت متعدد مقامات پر تلاشی لی جا رہی ہے۔ حکام کے مطابق یہ کارروائی ان افراد کے خلاف کی جا رہی ہے جو مبینہ طور پر سوشل میڈیا کے ذریعے شہزاد بھٹی سے مسلسل رابطے میں تھے۔
آپریشن سے متعلق مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔ یہ کارروائی اس کے دو روز بعد سامنے آئی ہے جب دہلی پولیس کی اسپیشل سیل نے بدھ کو پاکستان میں موجود مبینہ آئی ایس آئی ہینڈلر شہزاد بھٹی سے منسلک دو مبینہ نیٹ ورک بے نقاب کرنے کا دعویٰ کیا تھا اور دہلی و پنجاب سے چھ مشتبہ افراد کو گرفتار کیا تھا۔
ذرائع کے مطابق ملزمان سے پوچھ گچھ میں مبینہ طور پر یہ انکشاف ہوا کہ وہ شہزاد بھٹی کی ہدایات پر قومی دارالحکومت میں اہم مقامات پر پیٹرول بم حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ تفتیش کاروں کے مطابق ملزمان نے مبینہ طور پر نیو پولیس لائنز (سول لائنز)، آنند وہار بین الریاستی بس اڈہ (آئی ایس بی ٹی)، ایک ریلوے اسٹیشن اور دہلی کی بھیڑ بھاڑ والی مارکیٹوں کی ریکی کی تھی۔
ان مقامات کی ویڈیوز ان کے موبائل فون سے برآمد ہوئیں، جنہیں ایک ممنوعہ میسجنگ ایپ کے ذریعے مبینہ طور پر شہزاد بھٹی کو بھیجا گیا تھا۔ ذرائع نے بتایا کہ سوشل میڈیا چیٹس سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ شہزاد بھٹی نے ایک ملزم دانش عرف چاند میاں کو مبینہ طور پر "سامان" کی وصولی اور ذخیرہ کرنے کی ہدایت دی تھی، جسے تفتیش کار منصوبہ بند حملوں کے لیے استعمال ہونے والے پیٹرول بم قرار دے رہے ہیں۔
اس سے قبل دہلی پولیس کی اسپیشل سیل نے تحقیقات کے دوران راج گھاٹ کے پیچھے وجے گھاٹ سے پیٹرول بم بھی برآمد کیے تھے۔ تفتیش کاروں کے مطابق گرفتار کیے گئے چھ ملزمان کے پاکستان میں موجود مزید دس افراد سے بھی مبینہ روابط تھے، جو شہزاد بھٹی کے لیے کام کر رہے تھے۔ پولیس ان افراد کے کردار اور وسیع تر مبینہ سازش میں ان کی شمولیت کی تحقیقات کر رہی ہے۔
تحقیقات کے مطابق دانش عرف چاند میاں کو دہلی میں ریکی اور حملوں کی منصوبہ بندی کی ذمہ داری سونپی گئی تھی اور کامیاب کارروائی کی صورت میں اسے 20 ہزار روپے دینے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ اس کے ساتھی سلمان کو مبینہ طور پر حملے کی ویڈیو بنا کر شہزاد بھٹی کو بھیجنے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔
ایک اور ملزم طیب پر مبینہ طور پر اسلحے کی کھیپ وصول کرنے اور فروخت کرنے کی ذمہ داری تھی، جبکہ زبیر خان نے مبینہ طور پر اس کھیپ کو امرتسر سے منتقل کیا۔ علی فضل پر اسلحہ فروخت کرنے کا الزام ہے، جبکہ ملکیت سنگھ پر پاکستان سے ڈرون کے ذریعے گرائے گئے اسلحے کو وصول کرکے نیٹ ورک کے دیگر ارکان تک پہنچانے کا اہم کردار ادا کرنے کا الزام ہے۔