ترواننت پورم
نِپا وائرس کے مریض کے رابطے میں آنے والے کم خطرے کے زمرے کے 11 افراد نے لازمی 21 روزہ نگرانی کی مدت مکمل کر لی ہے اور انہیں نگرانی سے ہٹا دیا گیا ہے۔پیر کے روز محکمہ صحت و دیوسوم کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ کم خطرے کے زمرے کے 11 افراد نے نِپا مریض کے رابطے میں آنے کے بعد 21 دن کی نگرانی کی مدت مکمل کر لی ہے اور انہیں نگرانی سے خارج کر دیا گیا ہے۔
وزیر صحت کے دفتر کے مطابق نگرانی کے دوران ان افراد میں نِپا وائرس کی کوئی علامت ظاہر نہیں ہوئی۔وزیر صحت کے دفتر نے بتایا کہ رابطہ فہرست میں شامل کسی بھی فرد کو اسپتال میں داخل کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ فی الحال انتہائی زیادہ خطرے کے زمرے کے 4 افراد اور زیادہ خطرے کے زمرے کے 14 افراد قرنطینہ میں ہیں، جبکہ کم خطرے کے 75 افراد کی نگرانی جاری ہے۔
نِپا وائرس کا مریض اب بھی کوزھیکوڈ میڈیکل کالج اسپتال میں وینٹی لیٹر سپورٹ پر زیرِ علاج ہے۔پیر کے روز محکمہ صحت کی ٹیموں نے رامناٹّوکارا میونسپلٹی کے ڈویژن 5 میں مزید 51 گھروں کا دورہ کیا، جہاں انفیکشن کی اطلاع ملی تھی۔
ضلع کنٹرول روم کو اب تک عوام کی جانب سے معلومات حاصل کرنے کے لیے 91 کالیں موصول ہوئی ہیں، جبکہ صحت کارکن نگرانی میں رکھے گئے تمام افراد سے روزانہ رابطے میں ہیں۔
وزیر صحت کے دفتر کے مطابق، ضلعی ذہنی صحت پروگرام کے تحت 125 افراد کو نفسیاتی معاونت بھی فراہم کی گئی ہے۔دوسری جانب، ریاست میں پیر کے روز شیگیلا انفیکشن کے 15 نئے کیس سامنے آئے۔
ان میں
کوزھیکوڈ: 8 کیس
ملاپورم: 3 کیس
وائناڈ: 2 کیس شامل ہیں۔
ان نئے کیسوں کے بعد صرف جون کے مہینے میں کیرالہ میں شیگیلا انفیکشن کے 165 کیس اور 6 اموات ریکارڈ کی جا چکی ہیں، جبکہ رواں سال مجموعی تصدیق شدہ کیسوں کی تعداد بڑھ کر 241 ہو گئی ہے۔
وزیر صحت کے دفتر کے مطابق جون کے دوران کوزھیکوڈ، ملاپورم اور وائناڈ میں انفیکشن کے سب سے زیادہ کیس سامنے آئے ہیں۔سرکاری طور پر درج ذیل اضلاع میں انفیکشن پھیلنے کا اعلان کیا گیا ہے
کوزھیکوڈ: 57 کیس
وائناڈ: 22 کیس
تری
اس ماہ دیگر اضلاع میں درج ہونے والے کیسوں میں ملاپورم (24)، ترواننت پورم (17)، کنّور (11)، کولّم (10)، ایڈوکی (3)، ارناکولم (3) اور پالکّڈ (3) شامل ہیں۔
اس سے قبل منگل کو کیرالہ کے وزیر صحت کے مرلی دھرن نے کہا تھا کہ حکومت نِپا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے میں کامیاب رہے گی۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وائرل اور امیبی امراض کی روک تھام کے لیے ایک ہائی پاور کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔