لوک سبھا: کلیان بنرجی کو مانسون اجلاس کے لیے معطل

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 22-07-2026
لوک سبھا: کلیان بنرجی کو مانسون اجلاس  کے لیے معطل
لوک سبھا: کلیان بنرجی کو مانسون اجلاس کے لیے معطل

 



نئی دہلیلوک سبھا نے ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمنٹ کلیان بنرجی کو پارلیمنٹ کے جاری مانسون اجلاس کی بقیہ مدت کے لیے معطل کرنے کی قرارداد منظور کر لی۔ ان پر خاتون ارکان پارلیمنٹ کے خلاف غیر شائستہ رویہ اختیار کرنے اور نامناسب زبان استعمال کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔مرکزی وزیر قانون ارجن رام میگھوال نے بدھ کے روز لوک سبھا میں کلیان بنرجی کی معطلی کی قرارداد پیش کی۔ اس وقت ایوان کی کارروائی کی صدارت تیلگو دیشم پارٹی کے رکن پارلیمنٹ کے پی تینیتی کر رہے تھے۔

کے پی تینیتی نے ایوان کو بتایا کہ لوک سبھا اسپیکر کو کلیان بنرجی کے مبینہ رویے اور زبان کے استعمال کے خلاف ایک تحریری شکایت موصول ہوئی ہے۔ اس کے بعد ایوان نے قرارداد منظور کرتے ہوئے انہیں مانسون اجلاس کی باقی مدت کے لیے معطل کر دیا۔

شکایت میں الزام لگایا گیا ہے کہ کلیان بنرجی نے ایوان کی کارروائی کے دوران غیر معمولی اور نامناسب رویہ اختیار کیا اور خواتین کے بارے میں توہین آمیز انداز میں نیشنل کانفرنس آف پارلیمنٹرینز آف انڈیا کے ارکان اور مرکزی وزیر بھوپیندر یادو کے خلاف نازیبا زبان استعمال کی۔اس سے قبل جون میں ترنمول کانگریس کی باغی رکن پارلیمنٹ اور نیشنل کانفرنس آف پارلیمنٹرینز آف انڈیا کی موجودہ نمائندہ کاکولی گھوش دستیدار نے بھی کلیان بنرجی پر شدید تنقید کرتے ہوئے انہیں لوک سبھا سے خارج کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

انہوں نے الزام لگایا تھا کہ کلیان بنرجی بار بار خواتین کے خلاف توہین آمیز تبصرے کرتے ہیں اور ان کا طرز عمل نامناسب ہے۔اے این آئی سے گفتگو کرتے ہوئے کاکولی گھوش دستیدار نے کلیان بنرجی کو عادی مجرم قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ جو شخص بار بار خواتین یا ایوان کے دیگر ارکان کی بے عزتی کرے اسے قانون کے مطابق سزا ملنی چاہیے۔انہوں نے کہا تھا کہ اگر کوئی شخص مسلسل خواتین ارکان کو نازیبا الفاظ سے مخاطب کرے یا ان کے ساتھ غیر مناسب برتاؤ کرے تو اسے کسی رعایت کے بغیر سزا دی جانی چاہیے۔

کاکولی گھوش دستیدار نے اس معاملے میں لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کو بھی خط لکھا تھا۔ انہوں نے اپنے خط میں 28 مئی 2026 کی سابقہ شکایت کا حوالہ دیتے ہوئے کلیان بنرجی کے خلاف مناسب کارروائی اور انہیں لوک سبھا سے خارج کرنے کی درخواست کی تھی۔انہوں نے الزام لگایا تھا کہ کلیان بنرجی نے ایوان کی کارروائی کے دوران ان سمیت متعدد خاتون ارکان پارلیمنٹ کے خلاف بار بار قابل اعتراض۔ غیر مہذب اور نامناسب زبان استعمال کی۔