للت مودی کی سال کے آخر تک بھارت واپسی کا اعلان

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 22-07-2026
للت مودی کی سال کے آخر تک بھارت واپسی کا اعلان
للت مودی کی سال کے آخر تک بھارت واپسی کا اعلان

 



لندن: انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کے بانی اور پہلے چیئرمین للت مودی نے بدھ کو کہا کہ وہ اس سال کے آخر یا آئندہ سال کے آغاز میں بھارت واپس آئیں گے، کیونکہ اسموگلرز اینڈ فارن ایکسچینج مینی پولیٹرز (فارفیچر آف پراپرٹی) ایکٹ (SAFEMA) کے اپیلیٹ ٹریبونل نے 2009 کے آئی پی ایل جنوبی افریقہ فیما (FEMA) کیس میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کے بیشتر نتائج اور جرمانوں کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔

ایک ویڈیو پیغام میں للت مودی نے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا، ’’میں اس فیصلے پر بے حد خوش ہوں۔ سولہ برس کی قانونی جدوجہد کے بعد وہی بات درست ثابت ہوئی جو میں ابتدا سے میڈیا اور سب سے کہتا آیا تھا۔ ٹریبونل نے میرے حق میں فیصلہ دیا ہے۔ میری واحد فکر آئی پی ایل کی بھلائی تھی۔‘‘

انہوں نے کہا، ’’اب یہ باب ختم ہو چکا ہے اور میں اپنی زندگی میں آگے بڑھنا چاہتا ہوں۔ میری بیٹی اکتوبر میں بچے کی پیدائش کی منتظر ہے، اس کے بعد امید ہے کہ میں اس سال کے آخر یا اگلے سال کے آغاز میں بھارت واپس آ جاؤں گا۔‘‘ منگل کو چیئرمین جسٹس منیشور ناتھ بھنڈاری اور رکن راجیش ملہوترا پر مشتمل اپیلیٹ ٹریبونل نے 31 مئی 2018 کے ای ڈی کے حکم کے خلاف دائر اپیلوں کو جزوی طور پر منظور کیا تھا۔ یہ مقدمہ 2009 کے آئی پی ایل سیزن سے متعلق ہے، جسے لوک سبھا انتخابات کے باعث بھارت سے جنوبی افریقہ منتقل کیا گیا تھا۔

ای ڈی کا الزام تھا کہ بھارتی کرکٹ کنٹرول بورڈ (بی سی سی آئی) نے ٹورنامنٹ کے انعقاد کے لیے بیرون ملک رقوم بھیجتے وقت فارن ایکسچینج مینجمنٹ ایکٹ (فیما) کی خلاف ورزی کی، جس پر بی سی سی آئی اور اس کے عہدیداروں پر کروڑوں روپے کے جرمانے عائد کیے گئے تھے۔

ٹریبونل نے مجاز ڈیلر بینک اور اس کے ایک افسر کو بھی ذمہ داری سے بری کرتے ہوئے کہا کہ غیر ملکی ترسیلات معمول کے مطابق کی گئی تھیں اور انہیں فیما کی خلاف ورزی نہیں قرار دیا جا سکتا۔ البتہ ٹریبونل نے دو محدود نکات پر ای ڈی کے مؤقف کو برقرار رکھا۔ اس نے بی سی سی آئی پر حسابات میں درج رقم سے زیادہ ترسیل کرنے پر چار کروڑ روپے کا جرمانہ برقرار رکھا، جبکہ ٹکٹوں کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم بھارت واپس لانے میں تاخیر کے معاملے میں جرمانہ چار کروڑ سے کم کر کے ایک کروڑ روپے کر دیا، کیونکہ رقم بالآخر واپس منتقل کر دی گئی تھی۔

ٹریبونل نے للت مودی پر رقم کی تاخیر سے واپسی کے معاملے میں عائد جرمانہ ختم کرتے ہوئے کہا کہ جب یہ رقم بھارت واپس لائی گئی، اس وقت وہ پہلے ہی معطل ہو چکے تھے اور معاملے کی ذمہ داری ان کے پاس نہیں تھی۔ اپنے بیان میں للت مودی نے کہا کہ وہ گزشتہ سولہ برس سے مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتے آئے ہیں کہ انہوں نے ’’نیک نیتی سے، بھارتی کرکٹ اور آئی پی ایل کے بہترین مفاد میں کام کیا اور کسی ذاتی بدعنوانی کے مرتکب نہیں ہوئے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ 2009 میں عام انتخابات کے باعث بھارت میں آئی پی ایل کا انعقاد ممکن نہیں تھا، اس لیے اسے جنوبی افریقہ منتقل کرنے کا فیصلہ غیر معمولی حالات میں کیا گیا۔

ان کے مطابق اسی فیصلے نے آئی پی ایل کو بچایا، جو بعد میں دنیا کی سب سے قیمتی کھیلوں کی لیگز میں شامل ہو گئی۔ جون میں ایک انٹرویو کے دوران للت مودی نے خود کو ’’مفرور‘‘ قرار دیے جانے کے تاثر کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں کبھی کسی جرم میں سزا نہیں سنائی گئی اور ان کے خلاف ایسا بیانیہ قانونی حقیقت کے بجائے میڈیا کی سنسنی خیزی کا نتیجہ ہے۔