نئی دہلی: ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل کی خبر کے بعد شدید ردعمل دیکھنے میں آیا اور ہندوستان پاکستان اور عراق میں احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے۔ اتوار کے روز پاکستان کے شہر کراچی میں سینکڑوں مظاہرین امریکی قونصل خانے کے باہر جمع ہوئے اور مشتعل ہجوم نے عمارت کی جانب پیش قدمی کی۔ پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں نو افراد ہلاک ہو گئے۔ خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق یہ احتجاج اس وقت بھڑکا جب ایران نے امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائی میں خامنہ ای کی ہلاکت کی تصدیق کی۔
پاکستان میں کہرام اور ہلاکتوں
آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت کے بعد پاکستان کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا جس میں سب سے زیادہ کشیدگی کراچی میں دیکھی گئی۔ امریکی قونصل خانے کے اطراف کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والے احتجاج کے باعث پورا علاقہ کسی تصادم زدہ مقام کا منظر پیش کرتا رہا۔ سڑکوں پر ہجوم موجود رہا اور سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری تعینات کی گئی۔
کراچی میں ہسپتال اور ریسکیو حکام کے مطابق اتوار کو امریکی اور اسرائیلی حملے میں ایرانی سپریم لیڈر کی ہلاکت کی خبر کے بعد قونصل خانے کے باہر ہونے والے احتجاج کے دوران فائرنگ کے نتیجے میں 10 مظاہرین جان سے گئے۔ متعدد افراد زخمی بھی ہوئے جنہیں قریبی ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔
دوسری جانب گلگت میں بھی حالات کشیدہ رہے جہاں مظاہروں کے دوران سات افراد ہلاک جبکہ 45 زخمی ہوئے۔ سکردو پولیس کنٹرول کے ایک اہلکار نے بتایا کہ احتجاج کے دوران اقوام متحدہ کے دفتر ایس پی پولیس کی رہائش گاہ ایک آئی ٹی دفتر اور آغا خان رورل سپورٹ پروگرام کے دفتر کو آگ لگا دی گئی۔
حکام کے مطابق خراب صورتحال کے پیش نظر سکردو میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے جبکہ پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ پرامن رہیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تعاون کریں تاکہ حالات کو معمول پر لایا جا سکے۔
عراق میں حملے
عراق میں بھی کشیدگی کی صورتحال رہی جہاں سیکیورٹی فورسز نے بغداد کے گرین زون کے داخلی راستوں پر سخت پہرا دیا۔ عراقی شیعہ مسلح گروہوں کے حامی بڑی تعداد میں وہاں جمع ہوئے اور امریکی سفارت خانے کی طرف بڑھنے کی کوشش کی تاہم سیکیورٹی اہلکاروں نے انہیں آگے جانے سے روک دیا۔
عراق میں مظاہرے
ہندوستان میں جموں و کشمیر اور اتر پردیش کے شہر لکھنؤ میں احتجاج دیکھنے میں آیا۔ سری نگر شہر میں مکمل ہڑتال رہی دکانیں بند رہیں اور پبلک ٹرانسپورٹ معطل رہی۔ لال چوک میں بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوئے اور امریکہ و اسرائیل کے خلاف نعرے لگائے جبکہ خامنہ ای کی تصاویر بھی اٹھائی گئیں۔ احتجاج بڈگام اور دیگر علاقوں تک پھیل گیا جس کے بعد انتظامیہ نے حالات پر قابو پانے کے لیے اضافی سیکیورٹی فورسز تعینات کر دیں۔
سری نگر میں کشمیری شیعہ مسلم برادری نے سوگ مناتے ہوئے مظاہرہ کیا اور خامنہ ای کی ہلاکت کے خلاف آواز بلند کی۔ لکھنؤ کے پرانے شہر میں بھی بڑی تعداد میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔ شیعہ مسلم خواتین آنسوؤں کے ساتھ غم کا اظہار کرتی نظر آئیں اور اسلامی جمہوریہ کے حق میں نعرے لگاتی رہیں۔ انتظامیہ کی جانب سے حساس علاقوں میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی تاکہ کسی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔