نئی دہلی: سپریم کورٹ نے کیرالہ ہائی کورٹ کے اس عبوری حکم کے خلاف دائر درخواست پر 20 جولائی کو سماعت کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے، جس میں کیرالہ وقف بورڈ کو عدالت کی اجازت کے بغیر کوئی بڑا فیصلہ کرنے سے روک دیا گیا تھا۔
چیف جسٹس سوریا کانت، جسٹس جوئے مالیہ باغچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ نے جمعہ کو وقف بورڈ کے وکیل کی فوری سماعت کی درخواست پر غور کرتے ہوئے معاملے کو پیر کے روز سماعت کے لیے مقرر کر دیا۔ کیرالہ ہائی کورٹ نے 15 جولائی کے اپنے عبوری حکم میں وقف بورڈ کو عدالت کی پیشگی اجازت کے بغیر کوئی اہم فیصلہ کرنے سے روک دیا تھا۔
عدالت نے یہ بھی ہدایت دی تھی کہ وقف بورڈ عدالت کی واضح اجازت کے بغیر نہ کوئی سرمایہ جاتی اخراجات کرے اور نہ ہی کوئی پالیسی فیصلہ لے۔ ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت کو یہ بھی حکم دیا تھا کہ یونائیٹڈ وقف مینجمنٹ، ایمپاورمنٹ، ایفیشینسی اینڈ ڈیولپمنٹ ایکٹ کی دفعات کے مطابق وقف بورڈ میں حکومت کے نمائندے کی تقرری کو یقینی بنایا جائے۔
عدالت نے مزید کہا تھا کہ فی الحال وقف بورڈ کے امور ریاستی حکومت کے جوائنٹ سکریٹری (وقف امور) کی نگرانی میں چلائے جائیں گے۔ ہائی کورٹ نے یہ احکامات متعدد مفادِ عامہ کی درخواستوں (PIL) کی سماعت کے دوران صادر کیے تھے، جن میں بی جے پی رہنما شون جارج کی درخواست بھی شامل تھی۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ بورڈ میں قانون کے مطابق دو غیر مسلم ارکان موجود نہ ہونے کے باعث اس کی کارروائیاں غیر قانونی ہیں۔ ہائی کورٹ نے اس معاملے کی آئندہ سماعت 22 جولائی مقرر کی ہے۔